بجلی قیمتوں کا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر نہ ڈالا جائے،آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فیصلے کا بوجھ کم اور متوسط آمدنی والے طبقات پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔

برطانوی خبر رساں ادارے  رائٹرکے مطابق آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری مذاکرات میں یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ مجوزہ ٹیرف تبدیلیاں پروگرام کے وعدوں سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں، اور ان کے مہنگائی سمیت مجموعی معاشی استحکام پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حکام کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں نمایاں ردوبدل کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے صنعت پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، تاہم مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ یہ پیش رفت آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی (EFF) پروگرام کے تحت شرائط پوری کرنے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جبکہ ایک اور جائزہ قریب ہے۔

توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی ایک طویل مدتی قرض پروگرام ہے جس کا مقصد رکن ممالک کو گہرے معاشی مسائل اور ادائیگیوں کے توازن کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کا وزن نمایاں ہے، اس لیے نرخوں میں تبدیلی سیاسی اور معاشی طور پر حساس سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ مہنگائی کی شرح 2023 میں تقریباً 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو چکی ہے، تاہم یہ اب بھی ایک اہم عوامی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

پاکستان کا توانائی شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے مسئلے کا شکار ہے، جو غیر ادا شدہ بلوں اور سبسڈی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ 2023 سے آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت متعدد بار بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جا چکا ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بہتر وصولیوں اور لائن لاسز میں کمی کی بدولت پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں اضافے کو پروگرام کے طے شدہ اہداف کے اندر رکھا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔