اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور اطراف میں اپوزیشن اتحاد اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ اسمبلی کا احتجاج رات بھر جاری رہا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کیے جانے تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔
یہ احتجاج تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر شروع کیا گیا، جس میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اور اراکینِ اسمبلی شریک ہیں۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر موجود رہتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
احتجاج کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کے داخلی و خارجی دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ لیڈی پولیس اہلکار بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
ریڈ زون کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں، صرف مارگلہ روڈ کو آمد و رفت کے لیے کھلا رکھا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر بھی پولیس کی بڑی تعداد موجود ہے جہاں صوبائی اراکین اسمبلی کا پرامن دھرنا جاری ہے۔
اراکینِ پارلیمنٹ نے رات پارلیمنٹ کی مسجد اور اس کے اطراف میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق پارلیمنٹ کی بجلی بھی عارضی طور پر بند کی گئی، تاہم اس کے باوجود قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین نے احتجاج جاری رکھا۔
اپوزیشن قیادت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کا فوری طبی معائنہ کرایا جائے اور انہیں اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos