بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر پر امریکی حمایت حاصل کرنے کیلئے بھارت کی زراعت کا سودا کردیا۔امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والی تجارتی ڈیل کے خفیہ پہلو سامنے آگئے ہیں۔ بھارت نے امریکہ سے 5سالہ تجارتی معاہدہ کیا ہے۔اس کے تحت دونوں ملک برآمدات پرایک دوسرے کو ٹیکس میں رعایتیں دیں گے۔
اس ڈیل کی مالیت کا اندازہ 500ارب ڈالر ہے۔بھارت میں مبصرین کا کہناہے کہ نریندرمودی نے کشمیر پر بھارت کی خراب پوزیشن بہتر کرنے کیلئے اپنی زراعت داؤ پر لگا دی ہے۔سیاسی ماہرین کو حیرانی اس وقت ہوئی جب تجارتی ڈیل کے فوراً بعد واشنگٹن سے بھارت کا ایک نقشہ جاری ہوا جس میں پاکستانی کشمیر اور کچھ شمالی علاقوں کوبھارت کا حصہ دکھایا گیا۔
پاکستان نے فوراًاحتجاج کیا اور امریکہ نقشہ درست کرنے پر مجبور ہوگیا۔لیکن مبصرین کے مطابق ٹرمپ نے دونوں ممالک کے ساتھ کھیل کھیلاہے۔
سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر دونوں ملکوں کی دشمنی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ واشنگٹن سے اچھے تعلقات کافائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان نے ٹرمپ سے وعدہ لیا کہ ہرفورم پر کشمیر کا مسئلہ اٹھایاجائے گا اوربھارت پرمذاکرات کے لیے دبائوڈالا جائے۔
مودی نے امریکی دباؤ سے بچنے کیلئے واشنگٹن سے ایسا معاہدہ کر لیا جس سے بھارت کی زراعت کو نقصان پہنچے گا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ سچ ہے تو کشمیر دوبارہ تجارتی لین دین کا حصہ بن گیا ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ کشمیر پر خاموشی اختیار کرنے کے بدلے میں بھارت نے 500 ارب ڈالر کا ہرجانہ ادا کیا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos