کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ کیا تو پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کر دی، ابتدائی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کیا تاہم پولیس نے انہیں روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ مظاہرین رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے تو پولیس نے مزید شیلنگ کر کے پیش قدمی روک دی۔
پولیس انتظامیہ اور جماعت اسلامی کے وفد کے درمیان ابتدائی مذاکرات ناکام رہے۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ انہیں ہدایات دی گئی ہیں کہ مظاہرین کو سندھ اسمبلی کی طرف بڑھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے اپیل کی کہ مارچ ختم کیا جائے کیونکہ اسمبلی کے باہر دھرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب رکن صوبائی اسمبلی محمد فاروق، نائب امیر کراچی مسلم پرویز اور دیگر رہنما سڑک پر بیٹھ گئے۔ محمد فاروق کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ایک پُرامن جماعت ہے اور وہ اسمبلی کے باہر پُرامن دھرنا دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کوئی تاج محل نہیں کہ وہاں جانا منع ہو، ہر شہری کو وہاں جانے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ احتجاج کے دوران ایک گملہ تک نہیں ٹوٹے گا۔
کراچی میں سندھ اسمبلی پر دھرنا دینے کی کوشش کرنیوالے جماعت اسلامی کارکنوں پر شیلنگ
شدید لاٹھی چارج بھی کیا گیا، احتجاج ختم کرنے کیلئے مذاکرات ناکام، 10 کارکن گرفتار pic.twitter.com/fk4cmHgbx9— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) February 14, 2026
جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم انتظامیہ سے بات چیت کے لیے روانہ ہوئی تاہم ترجمان کے مطابق مذاکرات کے لیے کوئی ذمہ دار موقع پر موجود نہیں تھا، جس کے باعث ٹیم سڑک پر ہی بیٹھ کر انتظار کرتی رہی۔ محمد فاروق نے کہا کہ جب تک راستہ نہیں دیا جاتا وہ سڑک پر ہی بیٹھے رہیں گے اور پُرامن دھرنا جاری رکھیں گے۔
پولیس نے سندھ اسمبلی آنے والے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور اضافی نفری تعینات کر دی۔ ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق کارکنان مختلف اضلاع سے منظم قافلوں کی صورت احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں اور آج سندھ اسمبلی کے سامنے عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
ادھر پولیس نے جماعت اسلامی کے مظاہرین کو اردو بازار اشارہ پر بھی روک دیا جہاں بسیں لگا کر راستہ بند کیا گیا۔ اس مقام پر کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ پولیس نے دس سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ کارکنان اور پولیس کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی جبکہ آواز کے نظام والا ٹرک بھی تحویل میں لے لیا گیا۔ پہلے پولیس نے سندھ اسمبلی کے قریب رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اور کارکنان رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے دروازے تک پہنچ گئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی تک آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos