سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل تحقیقات کا آغاز۔پہلے دن کیاہوا؟

 

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس آغا فیصل کو کمیشن مقرر کیا گیا ہے اور انھوں نے تحقیقات کے لیے مخدوش قرار دے کر سربمہر کی گئی گل پلازہ کی عمارت کا دورہ کیا۔جسٹس آغا فیصل ہائیکورٹ کے بند اور ایئر کنڈیشنڈ کمروں سے نکلے اور گل پلازہ کی عمارت پہنچ گئے۔ان کے لیے ، عمارت کے اردگرد تانی گئی گرین چادر کاٹ کر عمارت میں داخل ہونے کا راستہ بنایا گیا ،۔دچادروں سے اڑ کر جسٹس آغا فیصل سمیت سب کے چہروں اور کپڑوں پر آگئی ،لیکن حقائق کی تلاش میں جسٹس آغا موبائل فونز کی روشنیوں میں عمارت کے اندر داخل ہوئے ، انھوں نے اس دکان کو تلاش کرنے کی کوشش کی جہاں سب سے پہلے آگ لگی، اس دکان کو بھی جانچنا چاہا جہاں سے سب سے زیادہ لاشیں ملیں، لیکن حکام نے انہیں بتایا کہ سب راستے بند ہیں، سیڑھیاں منہدم ہو چکی ہیں ۔ جسٹس آغا فیصل گل پلازہ کا محل وقوع ،حدود اربعہ جاننا چاہتے تھے تاکہ جب افسران ان کے سامنے پیش ہوکر جو کچھ بتائیں ان کا پس منظر خودان کے ذہن میں بھی ہو، اس سے پہلے بھی ہم نے ایسے تحقیقاتی ٹریبونلز دیکھے ہیں۔

 

مرتضی قتل کیس کی ابتدائی تحقیقات سپریم کورٹ کے جسٹس ناصر اسلم زاہد کی سربراہی میں تین رکنی ٹریبونل نے کی تھی، لیکن ٹریبونل کسی بھی شخص کو ذمہ دار قرار دینے میں ناکام رہا یا اس کی ہمت نہیں کی۔ اسی طرح سانحہ نشتر پارک میں 12ربیع الاول کے روز علما کی خود کش حملے میں ہلاکتوں کے سلسلے میں سیکیورٹی انتظامات اور ریسکیو کے اقدامات کے متعلق جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل ٹریبونل/کمیشن تشکیل دیا گیا ، جسٹس رحمت حسین جعفری فوجداری امور کے ماہر ترین افراد میں سے ایک تھے ،اس لیے حقائق پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے پولیس نے تفتیش کو اتنا پھیلایا کہ وہ مقررہ مدت میں کام مکمل نہ کرسکے۔ایسے ہی سانحہ بلدیہ فیکٹری کی تحقیقات کا معاملہ تھا ، سندھ حکومت نے اپنے پسندیدہ جج جسٹس شاہد قربان علوی کو بلدیہ ٹائون میں واقع علی انٹر پرائز کے نام سے فیکٹری میں آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے مقرر کیا، وہ بند کمرے میں تحقیقات کرتے رہے اور فیکٹری میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ کو قرار دیا ، حالانکہ کے آئی ٹی کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ بلیک فیکٹری میں آگ دہشت گردی تھی، جو بھتہ نہ دینے کے باعث ایم کیو ایم رہنمائوں کے حکم پر لگائی گئی تھی۔ آج پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو بلدیہ فیکٹری میں آگ لگانے کا طعنہ دیتی ہے لیکن اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ رئوف صدیقی ہوم منسٹر تھے ، کراچی کی سب سے زیادہ 200سے زائد انسان جل کر بھسم ہوگئے تھے ۔

 

حقائق سے پردہ نہ اٹھانے پر پیپلز پارٹی نے جسٹس زاہد قربان علوی کو نگراں وزیر اعلی کے لیے نامزد کرکے انکا احسان چکایا، کیونکہ اگر جسٹس زاہد قربان علوی بلدیہ فیکٹری میں ایم کیو ایم کو بے نقاب کردیتے تو پیپلز پارٹی کی حکومت بھی ختم ہو جاتی۔

 

خیر اب معاملہ ہے شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کی آتشزدگی کی تحقیقات کا ۔جسٹس آغا فیصل نے پہلا قدم درست سمت میں اٹھایا ہے ، اختتام کیسے ہوتا ہے ، پورے کراچی کی ہی نہیں پورے پاکستان کی نظریں جسٹس آغا فیصل پر ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔