چین کی خفیہ جوہری تنصیبات کیا ہیں اور امریکہ کیوں پریشان ہے؟
خفیہ جوہری تنصیبات کی جدید سیٹلائٹ تصاویر سے بیجنگ کے اپنے اسلحہ خانے کو وسعت دینے کی کوششوں کا پتہ چلتا ہے، یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے آخری عالمی ضمانتیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ جنوب مغربی چین کی سرسبز اور دھند چھائی وادیوں میں سیٹلائٹ تصاویر ملک کی جوہری تیاریوں کی تیز رفتار پیش رفت کو ظاہر کرتی ہیں، جو کہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کے نئے دور کے لیے ڈیزائن کی گئی ایک قوت ہے۔
صوبہ سچوان کی ایسی ہی ایک واد ی یتونگ کے نام سے جانی جاتی ہے، جہاں انجینئرز مضبوط گودام اور نئی قلعہ بندیاں تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔ وہاں پائپوں سے لیس ایک نیا کمپلیکس نمایاں ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ تنصیب انتہائی خطرناک مواد سے نمٹ رہی ہے۔
ایک اور وادی میںپنگتونگ نامی تنصیب دوہری باڑ میں گھری ہوئی ہے، ماہرین کا ماننا ہے کہ چین یہاں پلوٹونیم سے بھرے جوہری وارہیڈز کے مرکزی حصے تیار کر رہا ہے۔ اس کی مرکزی عمارت، جس کے اوپر 360 فٹ اونچا ہوا دار ستون ہے اسے گذشتہ برسوں میں نئے وینٹی لیشن سوراخوں اور ہیٹ سنک کے ساتھ جدید بنایا گیا ہے، اس کے ساتھ اضافی تعمیراتی کام بھی جاری ہے۔
پنگتونگ کمپلیکس کا ڈیزائن بتاتا ہے کہ اسے ایٹمی وارہیڈز کے دھاتی قلب (Pits) بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی فنِ تعمیر امریکہ کی لاس الاموس نیشنل لیبارٹری جیسی ہے۔ دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ زیتونگ میں نئے گودام اور بنکرز غالباً ‘ہائی ایکسپلوزیو’ کے تجربات کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جو ایٹمی مواد میں تعاملات کے لیے سازگار حالات پیدا کرتے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق چین کی یہ عسکری تیاری امریکہ اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے آخری بچ جانے والے معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد اسلحہ سازی پر عالمی کنٹرول کو بحال کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ کسی بھی اگلے معاہدے میں چین کو بھی پابند کیا جانا چاہیے، لیکن بیجنگ نے اس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ۔
جیو اسپیشل ڈیٹا انٹیلی جنس کے ماہر رینی بابیاز نے سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کرنے کے بعد بتایا کہ ان مقامات پر نظر آنے والی تبدیلیاں چین کے عالمی سپر پاور بننے کے وسیع تر اہداف کے مطابق ہیں اور ایٹمی ہتھیار اس کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2019ء سے ان تمام مقامات پر ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔
سچوان میں یہ مقامات چھ دہائیاں قبل ماؤ زے تنگ کے تیسرے محاذ نامی منصوبے کے تحت بنائے گئے تھے، جس کا مقصد چینی ایٹمی ہتھیاروں کی لیبارٹریوں اور کارخانوں کو امریکی یا سوویت حملوں سے بچانا تھا۔ اس علاقے کو امریکی ایٹمی سائنسدان ڈانی اسٹیلمین نے ایک داخلی جوہری سلطنت قرار دیا تھا۔ڈاکٹر بابیاز کے مطابق اسّی کی دہائی میں جب واشنگٹن اور ماسکو کے ساتھ کشیدگی کم ہوئی تو ان میں سے کئی مراکز بند کر دیے گئے یا محدود کر دیے گئے، لیکن پنگتونگ اور زیتونگ جیسے
مقامات کام کرتے رہے۔
چینی جوہری توسیع امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا باعث بن رہی ہے۔ اسلحہ کنٹرول اور بین الاقوامی سکیورٹی کے انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ تھامس جی ڈی نانو نے حال ہی میں کھلے عام چین پر عالمی پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ جوہری دھماکوں کے تجربات کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بیجنگ نے اس دعوے کو غلط قرار دے کر مسترد کر دیا ۔