عالمی اے آئی کانفرنس دھکم پیل،افراتفری اوربدنظمی سے بھارت کی ایک اورسبکی کا سامان بن گئی
آئی ٹی سمیت جدیدٹیکنالوجی میں ترقی کے دعوے داربھارت میں چارروزہ عالمی اے آئی کانفرنس ابتداسے ہی انتظامی نااہلی کاشاہکار بن کر ہلڑبازی اور بدنظمی کا شکار ہوگئی۔ چوتھی” اے آئی امپیکٹ سمٹ” بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں شروع ہوئی تاہم پہلے ہی دن طویل قطاروں، رش اور انتظامی خامیوں کے باعث اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اے آئی امپیکٹ سمٹ کا افتتاح پیر کو ہوگیا، تاہم پہلے ہی دن طویل قطاروں، رش اور انتظامی خامیوں کے باعث اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تقریب دارالحکومت نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہو رہی ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق غیر ملکی میڈیاکو متعدد مندوبین نے بتایا کہ غیر واضح ہدایات کی وجہ سے اس وقت افراتفری پھیل گئی جب اعلی سطح شخصیات کی آمد سے قبل سکیورٹی چیک کے لیے نمائش ہال اچانک خالی کرا لیا گیا، جس کے بعد شرکا کو اپنی اشیا واپس لینے کے لیے دوڑ دھوپ کرنا پڑی۔ کچھ مقررین، جو منگل کے روز پینل مباحثوں میں شریک ہونے والے تھے، ابھی تک اپنے سیشنز اور ایجنڈے کی تصدیق کے منتظر تھے۔
شرکا نے بتایا کہ ناقص سائن بورڈز اور محدود نشستوں نے مزید الجھن پیدا کی۔ اس ایونٹ میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے تاہم بعض سیشنز میں داخلے کے خواہشمند تمام افراد کو جگہ نہ مل سکی۔
کوریج پرماموربعض صحافیوں کو بھی پیر کا زیادہ تر وقت داخلے کے طریقہ کار سمجھنے میں گزارنا پڑا۔ ایونٹ کے واٹس ایپ گروپ میں گردش کرنے والے پیغامات کے مطابق ڈیجیٹل کیو آر کوڈز اور فزیکل پاسز کے حوالے سے ابہام پایا گیا۔ کچھ رپورٹرز نے شکایت کی کہ وعدے کے مطابق فزیکل پاسز دستیاب نہیں تھے، دیگر نے خبریں فائل کرنے اور انٹرویوز کرنے کے لیے نشستوں کی کمی پر ناراضی ظاہر کی۔
سوشل میڈیا پر بھی متعدد شرکا نے ایونٹ کے انتظامات پر تنقید کی۔ بھارت کی وزارتِ آئی ٹی نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
الجزیرہ نے بتایاہے کہ افتتاحی دن ہی کانفرنس کو شدید تنقید کی لہر کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ شرکا نے انتظام و انصرام میں کوتاہیوں کی شکایت کی۔” اے آئی وائس اسٹارٹ اپ ” بولنا” کے شریک بانی نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ گیٹس بندہونے کی وجہ سے میں اپنے بوتھ تک نہیں پہنچ سکا۔ اگر آپ بھی باہر پھنسے ہوئے ہیں اور بولنا (Bolna)کی ٹیم سے ملنا چاہتے ہیں تو مجھے ڈی ایم (DM) کریں۔
یہ مصنوعی ذہانت کے سالانہ اجتماع کا چوتھاایڈیشن ہے جو اے آئی سے پیداشدہ مسائل اور مواقع پر بات کرے گا، اس سے قبل پیرس، سیول اور برطانیہ میں بین الاقوامی اجلاس ہو چکے ہیں۔اسے اب تک کا سب سے بڑا ایڈیشن قرار دیا جا رہا ہے، بھارتی حکومت کو پورے سیکٹر سے لوگوں آم متوقع ہے جن میں 20 قومی رہنما اور 45 وزارتی سطح کے وفود شامل ہیں۔سربراہ کانفرنس میں ٹیک سی ای اوز بھی شرکت کررہے ہیں جن میں اوپن اے آئی کے سیم آلٹ مین اور گوگل کے سندر پچائی شامل ہیں۔