امریکی عدالت کے فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ کا تمام ممالک پر 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان
واشنگٹن:امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف بڑھانے کے بعض اقدامات کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد عالمی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت نیا ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ اس سے قبل عدالت نے ان کے بعض ٹیرف اقدامات کو غیر مؤثر قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ 10 فیصد عالمی ٹیرف پر دستخط کر دیے گئے ہیں اور یہ تمام ممالک پر لاگو ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے، تاہم ان کے نفاذ کا طریقہ کار مختلف ہوگا۔
صدر نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا اور کہا کہ بعض ججز سیاسی اثر و رسوخ میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ ملکی مفادات کے خلاف ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی عدالتی فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قانونی دائرہ کار سے متصادم ہے اور اسے قانون شکنی کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔
ٹیرف سے متعلق حالیہ پیش رفت کے بعد امریکا میں تجارتی پالیسی اور عدالتی اختیارات کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔