ٹرمپ کی رہائش گاہ میں گھسنے والے مسلح نوجوان کی ہلاکت ، تحقیقات میں اہم پیش رفت
پام بیچ، فلوریڈا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلوریڈا میں واقع رہائش گاہ ‘مار اے لوگو’ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک 20 سالہ مسلح شخص کی ہلاکت کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے وقت صدر ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی میں موجود تھے، جس کے باعث وہ کسی بھی براہِ راست خطرے سے محفوظ رہے۔
مقامی حکام کے مطابق یہ واقعہ دوپہر تقریباً 1:30 بجے پیش آیا جب سیکرٹ سروس اور پام بیچ کاؤنٹی شیرف ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے ایک مشتبہ سفید فام نوجوان کو رہائش گاہ کی محفوظ حدود کے اندر دیکھا۔ شیرف رِک بریڈشا نے تصدیق کی ہے کہ مشتبہ شخص کے پاس شاٹ گن اور پیٹرول کا کین موجود تھا، جو کسی بڑی تخریب کاری کی کوشش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے حکم کے باوجود، ملزم نے اشتعال انگیزی دکھائی اور گولی چلانے کے ارادے سے بندوق تانی، جس پر اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اب درج ذیل پہلوؤں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں،اس بات کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے کہ انتہائی محفوظ اور جدید ترین نگرانی کے نظام سے لیس اس عمارت میں مسلح شخص داخل ہونے میں کیسے کامیاب ہوا
واقعے کے وقت اہلکاروں نے باڈی کیمرے پہن رکھے تھے، جن کی فوٹیج کو کلیدی ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ فائرنگ کے حالات کا درست تعین کیا جا سکے۔
تاحال ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم وفاقی ایجنسیاں اس کے ماضی اور ممکنہ محرکات کا سراغ لگا رہی ہیں۔
مار اے لوگو کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور فارنزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ سیکرٹ سروس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام سکیورٹی اہلکار محفوظ ہیں اور عوام کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔