سعودی عرب میں فحاشی پھیلانے پر پاکستانی خاتون ڈی پورٹ- اصل کہانی کیا نکلی
خواتین کو بیرونِ ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر فحاشی کے دھندے میں دھکیلنے اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک اسمگل کرنے والے گروہ ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گزشتہ تین ماہ کے دوران کراچی ایئرپورٹ پر تین مختلف کارروائیوں میں ایسی متعدد خواتین کو گرفتار کیا ہے جو انسانی اسمگلنگ اور جسمانی استحصال میں ملوث نیٹ ورکس کی آلہ کار تھیں۔
تحقیقات کے مطابق ان گروہوں نے اپنی مذموم سرگرمیوں کے لیے عمرے کی آڑ بھی لینا شروع کر دی ہے۔ ایف آئی اے نے تازہ انکشافات کے بعد پرانے کیسز کا ریکارڈ حاصل کر کے دوبارہ چھان بین شروع کر دی ، کیونکہ شواہد سے ظاہر ہوا ہے کہ ماضی میں مفرور رہنے والے بعض ایجنٹ پھر سرگرم ہو چکے ہیں۔ متاثرہ خواتین اور ان کے اہلِ خانہ کو دھوکا دینے کے علاوہ کئی کیسز میں لڑکیوں کو خرید کر اسمگل کیا جاتا ہے اور نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل بھی کیا جاتا ہے تاکہ وہ خاموش رہیں۔
یف آئی اے کراچی زون نے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والی خاتون گلشن بی بی (سکنہ بہاولپور) کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی (ارائیول شفٹ A) پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران حراست میں لیا۔ اس کے ہمراہ 22 سالہ سمیرا بھی تھی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق سمیرا کو گلشن بی بی، ایجنٹ طیب علی اور معراج الدین (سکنہ فیصل آباد) کی معاونت سے بیرون ملک بھجوایا گیا تھا۔ سعودی عرب پہنچنے پر اسے ایک منظم نیٹ ورک کے حوالے کیا گیا جس میں زینی (لاہور)، حسیب (اوکاڑہ) اور حاجی اللہ وسایا (مقیم سعودی عرب) شامل ہیں۔
سمیرا نے بیان دیا کہ اسے گھروں میں ملازمت اور اچھی تنخواہ کا جھانسہ دیا گیا تھا۔ سعودی عرب پہنچنے کے بعد اسے 10 روز جدہ میں رکھا گیا، پھر مدینہ منتقل کیا گیا جہاں اسے فحاشی پر مجبور کیا گیا۔ پہلے روز فرار کا موقع نہ ملا تاہم دوسرے روز موقع پا کر بھاگ نکلی۔ پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات گلشن بی بی نے اپنے پاس رکھ لی تھیں۔ سعودی پولیس نے اسے گرفتار کیا اور تفتیش کے بعد گلشن بی بی کو بھی حراست میں لے کر ایک ماہ قید کی سزا سنائی۔ سزا مکمل ہونے کے بعد دونوں کو پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
ایف آئی اے امیگریشن نے گلشن بی بی کو مزید تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے کر دیا ، دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
اسی نوعیت کی ایک اور کارروائی 7 جنوری کو کراچی ایئرپورٹ پر عمل میں آئی، جہاں بیرون ملک جانے والی دو خواتین کو امیگریشن کلیئرنس کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا۔ دوران تفتیش فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے خواتین کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر بھرتی کرتی رہی ۔مرکزی ملزم، جو سفری اور دیگر انتظامات کرتا تھا، کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کے موبائل فونز سے واٹس ایپ چیٹس، وائس نوٹس اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے۔ تمام گرفتار افراد کو ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے کر دیا گیا ۔
25 دسمبر کو بھی کراچی ایئرپورٹ پر ایک منظم گروہ کا سراغ لگایا گیا تھا جو اچھی نوکریوں کا لالچ دے کر لڑکیوں کو بیرون ملک منتقل کرتا تھا۔ ایک متاثرہ لڑکی کی اطلاع پر بین الاقوامی تعاون سے اسے وطن واپس لایا گیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بیرون ملک لے جا کر لڑکیوں کو شدید استحصال، جسمانی تشدد اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق پسماندہ علاقوں کی کم عمر لڑکیاں آسان ہدف بنتی ہیں۔ انہیں متحدہ عرب امارات لے جا کر نائٹ کلبوں اور فلیٹس میں رکھا جاتا ہے، جہاں زبردستی فحاشی کروانے کے ساتھ ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا ہے تاکہ واپسی پر خاموش رہیں یا مزید استحصال پر مجبور ہوں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض سرکاری افسران کی پشت پناہی سے یہ گروہ پاکستان اور دبئی دونوں میں مضبوط سمجھے جاتے رہے۔ کراچی میں گڈاپ میمن گوٹھ، سپر ہائی وے کے فارم ہاؤسز اور گلستان جوہر و گلشن اقبال کے فلیٹس میں خفیہ ٹھکانے قائم کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق ان نیٹ ورکس کے ذریعے سینکڑوں کم عمر لڑکیوں کو متحدہ عرب امارات منتقل کیا جا چکا ہے۔ گلشن اقبال، ابوالحسن اصفہانی روڈ اور گلستان جوہر میں ایک بڑا گروہ طویل عرصے سرگرم رہا، جو جعلی ناموں اور کوائف کے ذریعے پاسپورٹ بنواتا تھا تاکہ ڈی پورٹ ہونے کی صورت میں اصل ملزمان تک رسائی مشکل ہو۔
اس نیٹ ورک کا پردہ اس وقت فاش ہوا جب 15 سال کی عمر میں دبئی منتقل کی جانے والی شازیہ (موجودہ عمر 19 سال) کئی برس بعد فرار ہو کر ایک این جی او تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ این جی او کی درخواست پر ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے تحقیقات شروع کیں اور مرکزی ملزم عبد القیوم (رہائشی ابوالحسن اصفہانی روڈ، گلشن اقبال) کو گرفتار کیا۔
تحقیقات کے مطابق شازیہ کو اس کی پڑوسن فاطمہ نے دبئی میں ملازمت کا جھانسہ دیا۔ عبد القیوم نے جعلسازی سے اس کا پاسپورٹ اپنی بیٹی کے کوائف پر بنوایا اور دبئی منتقل کر دیا، جہاں اسے فحاشی پر مجبور کیا گیا اور مختلف افراد کو فروخت کیا جاتا رہا۔ اسے بلیک میل کرنے کے لیے ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔
این جی او اور ایف آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق دبئی کے مختلف علاقوں میں قائم فلیٹس میں سینکڑوں پاکستانی لڑکیاں اسی طرح قید و جبر کا شکار تھیں۔ تین برس بعد شازیہ فرار ہو کر قانونی مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔
یہ کیس کراچی سے دبئی تک پھیلے ایک منظم، سفاک اور بااثر انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا سبب بنا۔ ایف آئی اے نے اعلان کیا ہے کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔