فضائی آپریشن میں ننگرہار کا بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ۔ سیکٹر ہیڈ کوارٹرز ،3 افغان بٹالینز اڑا دی گئیں۔ 12 پوسٹوں پر قبضہ

February 26, 2026 · اہم خبریں, قومی

سرحدی اشتعال انگیزی پر پاک فوج کے آپریشن غضب للحق میں پاک فضائیہ نے بھی کارروائی شروع کر دی۔ ننگر ہار میں گولہ بارود کا بڑا ڈیپو تباہ ہو چکا ہے۔ 3 افغان بٹالینز، اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز کو بھی اڑا دیا گیا ۔

موثر جوابی حملوں میں 58افغان خارجی جہنم واصل ہو چکے ہیں،100سے زائد زخمی،12پوسٹیں مکمل تباہ اور 5 پر قبضہ کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی میں دشمن کے 30سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ ہو گئی ہیں۔

شدت سے مزید حملے جاری ہیں۔

پاک فضائیہ نے تحریک طالبان افغانستان کا مرکزی ہیڈ کوارٹرز تباہ کردیا۔کرم سیکٹر کے قریب افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کردیئے گئے۔

پاک فوج نےچترال سیکٹر کے قریب افغان طالبان کی بریکوٹ بیس کو کامیابی سے نشانہ بنا کرتباہ کردیا ۔

 پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کیا اور وہاں قومی پرچم لہرا دیا۔

 

پاک فوج کی موثر اور منہ توڑ جوابی کارروائی پر افغان طالبان طورخم بارڈر چھوڑ کر ٹرکوں میں فرار ہو گئے ۔

 سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دشمن کو واضح پیغام دیا گیا کہ سرحدی خلاف ورزی یا کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور بلا اشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جوابی کارروائی کیلئے پرعزم ہیں ۔

پاک افغان سرحدی پٹی پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور جارحیت کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور موثر کارروائی کی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس جوابی کارروائی میں افغان طالبان کے 22 اہلکاروں کی ہلاکت کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کواڈ کاپٹرز کے ذریعے حملے کی ناکام کوشش

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی تھی۔ تاہم، پاکستانی فورسز نے بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے تمام کواڈ کاپٹرز کو فضا میں ہی تباہ کر کے گرا دیا۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے دشمن کے ٹھکانوں پر گولہ باری جاری ہے۔

 جدید ڈرونز کے ذریعے افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سرحدی دفاع کو مزید مضبوط بناتے ہوئے کسی بھی ممکنہ دراندازی کا راستہ روک دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری عسکری طاقت کے ساتھ دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ افغان طالبان کے ٹھکانے مسمار اور خوارج میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کے بعد پاکستانی شاہینوں نے برق رفتار کارروائی کی۔

مہمند سیکٹر می ٹی ٹی اے کا سیکٹر ہیڈ کواٹر تباہ

ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی پر پاک فوج نے فوری اور بھرپور ردِعمل دیتے ہوئے مہمند سیکٹر ٹی ٹی اے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آرٹیلری فائر سے ٹی ٹی اے کا سیکٹر ہیڈ کواٹر تباہ کر دیا۔

چترال سیکٹر میں پوسٹ ملبے کا ڈھیر

چترال سیکٹر میں افغان طالبان کی اہم ترین چیک پوسٹ کو پاکستانی آرٹلری نے نہایت درستگی سے نشانہ بنایا۔ گولا باری اتنی شدید تھی کہ پوری پوسٹ ملبے کے ڈھیر میں بدل گئی۔

باجوڑ (ناوگئی سیکٹر) میں بھی دو اہم چوکیاں نیست و نابود

باجوڑ (ناوگئی سیکٹر) میں بھی دشمن کی دو اہم چوکیاں مکمل طور پر نیست و نابود کر دی گئیں، جس کے بعد حملہ آوروں کی چیخیں سرحد پار تک سنی گئیں۔

تیراہ (خیبر)، ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر میں دشمن کے ٹھکانوں کو بھاری اسلحے سے نشانہ بنایا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستانی جوابی کارروائی کے سامنے خوارج کے قدم اکھڑ گئے اور وہ اپنے زخمیوں اور اسلحے کو چھوڑ کر پہاڑوں کی اوٹ میں چھپنے پر مجبور ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ میدانِ جنگ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان کی جانب سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوؤں اور فیک ویڈیوز کی بھرمار شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام مواد حقائق کے منافی ہے اور اپنی ناکامی چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

قبل ازیں افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغان سرحد پر پاکستانی فوج کے مراکز اور تنصیبات پر ’وسیع‘ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک اور پوسٹ میں طالبان فورسز کی جانب سے متعدد پاکستانی چیک پوسٹس کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ طالبان حکام کے بیان پر پاکستان نے تاحال سرکاری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

تاہم پاکستان میں باڑہ اور تیراہ کے علاقوں کے لوگوں نے بی بی بی سی اردو کو بتایا کہ آوازیں دور تک سنی جا رہی ہیں۔

خیال رہے پاکستان نے 21 فروری کو افغانستان کے اندر شدت پسندوں کے ساتھ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان میں عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملوں میں 80 سے زیادہ عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

دوسری جانب افغانستان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری مارے گئے تھے۔طالبان نے یہ بھی تنبیہ کی تھی کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔