افغان طالبان کے اتحادی دہشتگردوں کے پاکستان کے 3 شہروں میں ڈرون حملے

February 27, 2026 · اہم خبریں, قومی

افغان طالبان کے اتحادی دہشت گردوں نے پاکستان کے تین شہروں میں چھوٹے ڈرونز سے دہشت گرد حملے کیے ہیں تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔

جمعے کی دوپہر افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں ’فضائی کارروائی‘ کی گئی ہے ۔ افغان وزارتِ دفاع نے جمعے کی دوپہر ایکس پر جاری کیے گئے پیغام میں دعویٰ کیا کہ ‘فضائیہ کی مدد سے کیے گئے حملوں میں اسلام آباد، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔’

ان دعوؤں کے بعد پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر ہی اپنے پیغام میں کہا کہ ‘فتنہ الخوارج دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز لانچ کرنے کی کوشش کی۔’

انھوں نے مزید لکھا کہ ‘یہ واقعات ایک بار پھر افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے براہِ راست تعلق کو بے نقاب کرتے ہیں۔‘

دیگر ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے 12 ڈرونز لانچ کیے جو تمام کے تمام مار گرائے گئے۔

سوشل میڈیا پر نوشہرہ اور صوابی میں مار گرائے گئے ڈرونز کی تصاویر گردش کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کے پاس کوئی ایئرفورس نہیں البتہ ڈرونز موجود ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سکائی نیوز نے افغانستان کے فضائی حملوں کا دعویٰ کیا تھا تاہم سے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کرنا پڑ گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ سیکورٹی ذرائع اور وزیرا اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق ان حملوں میں 133 طالبان ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ۔

افغان طالبان کے دو کور ہیڈ کوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، دو ایمو نیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈ کوارٹر، دو سیکٹر ہیڈ کوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینک، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دی گئیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان کی طرف سے دارالحکومت کابل کے کچھ مقامات، پکتیکا اور قندھار میں بمباری کی گئی ہے۔ جب کہ افغان وزارت دفاع نے اپنے 8 فوجی مارے جانے کی تصدیق کی۔

بعد ازاں افغانستان کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ گذشتہ رات پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔