کابل سے اٹھتے شعلے اور قندھاربھی ہدف ۔ مذاکرات چاہتے ہیں،افغان طالبان
افغان حکومت نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مسائل کو مذاکرات اورپر امن ذرائع سے حل کرنا چاہتی ہے۔ قندھار میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہاکہہم نے بارہا پرامن حل پر زور دیا ہے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی جانب سے کابل، قندھار اور دیگر شہروں پر فضائی حملوں کے کئی گھنٹوں بعد بھی پاکستانی طیارے افغانستان کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔کابل میں دو مقامات سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔برطانوی خبررساں ادارے نے کہاہے کہ تصدیق شدہ ویڈیو میں آگ کے بڑے شعلے بھی دیکھے گئے۔ کابل کے ایک ٹیکسی ڈرائیور نے بتایاکہ طیارہ آیا، دو بم گرائے اور پھر واپس اڑ گیا۔ اس کے بعد ہمیں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ہر کوئی خوف و ہراس کے عالم میں گھر کی دوسری منزل سے نیچے کی طرف بھاگا۔ ڈپو کے اندر موجود گولہ بارود خود بخود پھٹتا رہا۔
پاکستان میں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں طالبان کے فوجی دفاتر اور چوکیوں کو فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جو جمعرات کو افغان حملوں کا جواب تھے۔ کابل میں روئٹرز کو بتایا گیا کہ زوردار دھماکوں اور جیٹ طیاروں کی آوازوں کے بعد ایمبولینسوں کے سائرن بڑی تعداد میں سنے گئے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستانی افواج نے جمعرات کی رات کابل، قندھار اور پکتیا کے حصوں پر، اور جمعہ کو پکتیا، پکتیکا، خوست اور لغمان پر فضائی حملے کیے۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی امارت افغانستان نے ہمیشہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے، اور اب بھی ہم اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق، دو لاکھ سے کم نفری پر مشتمل طالبان فورس کا مقابلہ جدید جنگی طاقت رکھنے والی پاکستانی فوج سے ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) کی رپورٹ “ملٹری بیلنس 2025” کا حوالہ دیتے ہوئے CNN نے کہا کہ پاکستانی اور افغان افواج کے درمیان اعداد و شمار کا فرق انتہائی واضح ہے۔پاکستان کی فوج ملک کا سب سے طاقتور ادارہ سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایٹمی طاقت کے طور پر، پاکستان کے پاس جدید دفاعی نظام موجود ہے جس میں بری، بحری، فضائیہ اور میرین کور شامل ہیں۔ ان شاخوں میں تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار فعال فوجی موجود ہیں، تقریبا 3 لاکھ پیرا ملٹری اور ملٹری پولیس اہلکار معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اس روایتی عسکری طاقت کو امریکی ساختہ ایف-16، فرانسیسی میراج اورجے ایف 17جیسے جدید جنگی طیاروں سے تقویت حاصل ہے۔اس کے برعکس، افغانستان کے پاس ایک متحد فورس یعنی طالبان ہیں، جن کی تعداد اندازا دو لاکھ سے کم ہے۔ یہ فورس فعال فضائیہ سے محروم ہے اور امریکی انخلا کے وقت پیچھے رہ جانے والے چند سوویت دور کے جنگی ہیلی کاپٹروں، ٹرانسپورٹ طیاروں اور کواڈ کاپٹر ڈرونز پر انحصار کرتی ہے۔اگرچہ طالبان کے پاس بھاری اسلحہ محدود ہے، تاہم ان کی گوریلا جنگی حکمت عملی ان کی عسکری شناخت کی بنیاد ہے، جو دہائیوں کی غیر متناسب جنگ، نظریاتی سختی اور مذہبی جذبے سے مزید مضبوط ہو چکی ہے۔
2021 میں امریکہ اور نیٹو افواج کے خلاف فتح، جس کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے، ان کے اعتماد کو مزید بڑھاتی ہے۔حالیہ فضائی حملوں میں کابل، جنوب مشرقی صوبہ پکتیا اور قندھار کو نشانہ بنایا گیا، جسے طالبان کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے اور جہاں گروپ کے رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے۔کابل اور قندھار میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا سرحدی علاقوں سے ہٹ کر طالبان کے انتظامی اور نظریاتی مراکز کی طرف ایک بڑی تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، سرحد کے دونوں اطراف موجود تحریک طالبان پاکستان (TTP)کے غیر مرکزی اور متحرک نیٹ ورکس کا خاتمہ تاحال یقینی نہیں۔ ان کے پاس خودکش حملہ آوروں کے علاوہ غریب کی فضائیہ کہلانے والے ڈرونز بھی موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امکان ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے شہری مراکز میں تشدد کے واقعات دیکھنے کو ملیں۔ پاکستان کے اس آپریشن کو صدر، وزیر اعظم اور مختلف سیاسی حلقوں کی حمایت حاصل ہے، اور حکومت نے افغان سرزمین سے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔طالبان کے لیے کابل پر حملوں کو خاموشی سے برداشت کرنا اور پیچھے ہٹنا اپنے جنگجوئوں اور عوام کے سامنے کمزوری ظاہر کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
مبصرین کا کہناہے کہ کشیدگی کی حد پہلے ہی تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ مرحلہ وار اضافہ ہے جس میں کسی فریق نے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹایا۔ اگرچہ تنا عارضی طور پر کم ہو سکتا ہے، لیکن فی الحال واپسی کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔مستقبل کی سمت دو عوامل پر منحصر ہو گی: پاکستان کے اندر تشدد کی سطح اور بیرونی سفارتی دبا۔ اگر پاکستان کے اندر حملے جاری رہے اور کوئی موثر سفارتی مداخلت نہ ہوئی تو کشیدگی کے مزید ادوار کا حقیقی امکان موجود ہے۔ فی الوقت ایسے اشارے کم ہیں کہ کوئی فریق تزویراتی طور پر پسپائی اختیار کر رہا ہو۔الجزیرہ نے کہا ہے کہ ایک سابق جنرل کے مطابق کشیدگی میں کمی صرف پاکستان کی شرائط پر ممکن ہو سکتی ہے۔ ایک امکان یہ ہے کہ افغان حکومت اپنے پراکسی گروپوں کو ختم کرنے کا اشارہ دے اور انٹیلی جنس شیئرنگ اور ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہوں کو روکنے پر آمادہ ہو جائے۔ دوسری صورت میں اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان کا ردعمل بھی جاری رہ سکتا ہے۔ماضی میں وسیع فضائی بمباری سے بچ نکلنے کے تجربے کی بنیاد پر طالبان اس اعتماد کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ممکنہ پاکستانی فضائی آپریشنز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، ان کا ماننا ہے کہ ملک کے اندر ایسی کوئی موثر افغان اپوزیشن فورس موجود نہیں جو ان کی ممکنہ کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اقتدار حاصل کر سکے۔