برطانیہ میں سیکورٹی خطرے کی سطح’’شدید‘‘قرار۔امریکی شہریوں کو احتیاط کرنے کی ہدایت
اسکولوں، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت جاری۔سفری روٹس بدلنے کا مشورہ
لندن میں سکیورٹی خدشات میں اضافے کے پیش نظر کے بعد امریکی سفارت خانے نے برطانیہ میں موجود اپنے شہریوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے عوامی مقامات، اسکولوں اور عبادت گاہوں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔
برطانیہ کی جانب سے قومی دہشت گردی کے خطرے کی سطح “سبسٹینشل” سے بڑھا کر “سیویئر” کیے جانے کے بعد امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
لندن میں موجود امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ عوامی مقامات پر انتہائی چوکنا رہیں اور اسکولوں، چرچز، سیاحتی مقامات اور ٹرانسپورٹ حبز سے دور رہیں۔سفارت خانے نے مزید مشورہ دیا کہ امریکی شہری اپنے سفری روٹس اور اوقات میں تبدیلی کریں تاکہ ان کی نقل و حرکت غیر متوقع رہے اور وہ کم سے کم نمایاں ہوں۔
برطانیہ کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی فائیو (MI5) کے مطابق جوائنٹ ٹیررازم اینالیسس سینٹر نے .خطرے کی سطح کو ‘سبسٹینشل’ سے بڑھا کر ‘سیویئر’ کر دیا گیا ہے، جو خطرے کی دوسری بلند ترین سطح ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں کسی حملے کا امکان “انتہائی زیادہ” ہے۔
ایم آئی فائیو نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ کو گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردی کے خطرات میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ فیصلہ لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودی افراد پر چاقو حملے کے بعد سامنے آیا، تاہم ایجنسی نے واضح کیا کہ خطرے کی سطح میں اضافہ صرف اس واقعے کی وجہ سے نہیں ۔
ایجنسی کے مطابق خطرے میں اضافہ اسلامسٹ اور انتہائی دائیں بازو کے افراد یا چھوٹے گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے، خاص طور پر یہودی اور اسرائیلی افراد اور ادارے موجودہ مشرق وسطیٰ تنازع کے تناظر میں نشانے پر ہیں۔
یہ گزشتہ چند ہفتوں میں برطانیہ میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کیا جانے والا دوسرا سکیورٹی الرٹ ہے۔ اس سے قبل بھی سفارت خانے نے یہودی اور امریکی اداروں کو نشانہ بنانے والے حملوں اور دھمکیوں کے بعد شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی تھی۔