آپریشن غضب للحق کا مطلب کیا ہےاور یہ نام کیوں دیا گیا؟
یہ محض ایک کارروائی کا نام نہیں بلکہ اس کے پس منظر اور مقصد کی وضاحت بھی کرتا ہے۔
پاکستان نے افغانستان میں بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں جو فوجی کارروائی شروع کی ہے اسے ‘غضب للحق’ کا نام دیا گیا ہے۔
اس نام کا مطلب کیا ہے اور یہ نام کیوں دیا گیا؟ کیونکہ یہ محض ایک کارروائی کا نام نہیں بلکہ اس کے پس منظر اور مقصد کی وضاحت بھی کرتا ہے۔
‘غضب للحق’ تین الفاظ پر مشتمل ہے:
غضب کا مطلب ہے غصہ یا ردعمل
لل کا مطلب ہے کے لیے یا کی خاطر
حق کا مطلب ہے سچائی یا حق
یوں غضب للحق کا مطلب ہے: حق یا سچائی کے لیے غصہ یا ردعمل۔ یہ محض جذباتی غصہ نہیں بلکہ ملک اور عوام کے حق کے دفاع کی خاطر کی جانے والی کارروائی ہے۔
گذشتہ دو دہائیوں میں پاک فوج نے اکثر آپریشنز کے نام مذہبی یا عربی زبان سے رکھے تاکہ انہیں اخلاقی یا نظریاتی پس منظر دیا جا سکے۔ مثال کے طور پر:
ضربِ عضب (2014): شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف۔ لفظ ضربِ عضب کا مطلب ہے “حق کی تلوار کا وار”۔
رد الفساد (2017): دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں کارروائیاں۔ اس کا مطلب ہے “فساد کو رد کرنا”۔
سوئفٹ ریٹارٹ (2019): بھارتی فضائی حملے کے جواب میں، جس کا مطلب ہے “فوری جواب”۔
بنیان مرصوص (2025): بھارت کے خلاف آپریشن، جس کا مطلب ہے “سیسہ پلائی دیوار”۔
حالیہ کارروائی میں پاک فوج نے افغانستان کے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان رجیم کی فائرنگ کے جواب میں 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب یہ آپریشن شروع کیا گیا۔ پاک فوج نے سیکڑوں طالبان کو ہلاک کیا، متعدد چوکیوں پر قبضہ کیا اور ملک کے حق کے دفاع کے لیے پرچم لہرا دیا۔
یہ آپریشن واضح کرتا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اٹھانے پر یقین رکھتا ہے، اور اس کے اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں۔