ایران کے خلاف کارروائی پرامریکی صدر کےخطاب کا مکمل متن
47 سال سے ایرانی حکومت امریکہ مردہ بادکے نعرے لگا رہی ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی فوج نے ایران میں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ہمارا مقصد ایرانی حکومت جو کہ انتہائی سخت اور خوفناک لوگوں کا ایک سفاک گروہ ہےکی جانب سے درپیش فوری خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔
اس کی دھمکی آمیز سرگرمیاں براہِ راست ریاستہائے متحدہ، ہماری افواج، بیرونِ ملک ہمارے اڈوں اور پوری دنیا میں ہمارے اتحادیوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
47 سال سے ایرانی حکومت امریکہ مردہ بادکے نعرے لگا رہی ہے اور اس نے امریکہ، ہماری افواج اور بہت سے ممالک کے معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہوئے خونریزی اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت کی ایک نہ ختم ہونے والی مہم چلا رکھی ہے۔ اس حکومت کے بالکل ابتدائی اقدامات میں سے ایک تہران میں امریکی سفارت خانے پر پرتشدد قبضے کی حمایت کرنا تھا، جہاں درجنوں امریکیوں کو 444 دنوں تک یرغمال بنا کر رکھا گیا۔
1983 میں، ایران کے آلہ کاروں (proxies) نے بیروت میں میرین بیرکوں پر بمباری کی جس میں 241 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔سال 2000 میں، وہ یو ایس ایس کول پر ہونے والے حملے سے واقف تھے اور شاید اس میں ملوث تھے، جہاں بہت سے لوگ مارے گئے۔ایرانی افواج نے عراق میں سینکڑوں امریکی سروس ممبرز کو ہلاک اور معذور کیا۔
حالیہ برسوں میں اس حکومت کے آلہ کاروں نے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کے ساتھ ساتھ امریکی بحری اور تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی شپنگ لائنز پر لاتعداد حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ بڑے پیمانے پر دہشت گردی رہی ہے، اور ہم اسے اب مزید برداشت نہیں کریں گے۔ لبنان سے یمن اور شام سے عراق تک، اس حکومت نے ان دہشت گرد ملیشیاؤں کو مسلح کیا، تربیت دی اور مالی امداد فراہم کی جنہوں نے زمین کو خون سے نہلا دیا ہے۔
اور یہ ایران کا آلہ کار حماس ہی تھا جس نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کے خوفناک حملے کیے، جن میں 46 امریکیوں سمیت1ہزارسے زیادہ معصوم لوگوں کو ذبح کیا گیا اور ہمارے 12 شہریوں کو یرغمال بنایا گیا۔ یہ وحشیانہ تھا، ایسا کچھ جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی دنیا کی نمبر ون ریاست ہے، اور حال ہی میں اس نے احتجاج کرنے والے اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو سڑکوں پر قتل کر دیا۔
ریاستہائے متحدہ اور خاص طور پر میری انتظامیہ کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ یہ دہشت گرد حکومت کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتی۔ میں اسے دوبارہ کہوں گا: ان کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہو سکتے۔
اسی لیے، گزشتہ جون میں آپریشن مڈ نائٹ ہیمرمیں ہم نے فورڈو، نتنز اور اصفہان میں حکومت کے ایٹمی پروگرام کو نیست و نابود کر دیا تھا۔
اس حملے کے بعد، ہم نے انہیں خبردار کیا تھا کہ وہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی اپنی مذموم کوششیں دوبارہ شروع نہ کریں، اور ہم نے بار بار معاہدہ کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے کوشش کی۔ وہ (کبھی) یہ کرنا چاہتے تھے، (کبھی) وہ دوبارہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تذبذب کا شکار تھے۔ وہ صرف برائی کی مشق کرنا چاہتے تھےلیکن ایران نے (معاہدہ کرنے سے) انکار کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے وہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے ایٹمی عزائم سے دستبردار ہونے کے ہر موقع کو مسترد کر دیا، اور ہم اسے اب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔
تھوڑی دیر پہلے، ریاستہائے متحدہ کی فوج نے ایران میں بڑی جنگی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ہمارا مقصد ایرانی حکومت جو کہ انتہائی سخت اور خوفناک لوگوں کا ایک سفاک گروہ ہےکی جانب سے درپیش فوری خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔ اس کی خطرناک سرگرمیاں براہِ راست ریاستہائے متحدہ، ہماری افواج، بیرونِ ملک ہمارے اڈوں اور پوری دنیا میں ہمارے اتحادیوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
47 سال سے ایرانی حکومت مریکہ مردہ بادکے نعرے لگا رہی ہے اور اس نے خونریزی اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت کی ایک نہ ختم ہونے والی مہم چلا رکھی ہے۔ اس حکومت کے ابتدائی کاموں میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر پرتشدد قبضہ اور درجنوں امریکیوں کو 444 دنوں تک یرغمال بنانا شامل تھا۔ 1983 میں، ایران کے آلہ کاروں نے بیروت میں امریکی میرین بیرکوں پر بمباری کی جس میں 241 امریکی فوجی مارے گئے۔ 2000 میں، و ہ یو ایس ایس کول پر حملے میں ملوث تھے جہاں کئی جانیں گئیں۔
ایرانی افواج نے عراق میں سینکڑوں امریکی فوجیوں کو ہلاک اور معذور کیا۔ اس کے آلہ کاروں نے حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج اور تجارتی بحری جہازوں پر ان گنت حملے جاری رکھے ہیں۔ یہ بڑے پیمانے پر دہشت گردی رہی ہے، اور ہم اسے اب مزید برداشت نہیں کریں گے۔ لبنان سے یمن اور شام سے عراق تک، اس حکومت نے ان دہشت گرد ملیشیاؤں کو مسلح کیا اور فنڈز دیے جنہوں نے زمین کو خون سے نہلا دیا ہے۔اور یہ ایران کا آلہ کار حماس ہی تھا جس نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کے وحشیانہ حملے کیے، جس میں 46 امریکیوں سمیت1ہزارسے زیادہ معصوم لوگوں کو ذبح کیا گیا۔ ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جس نے حال ہی میں احتجاج کرنے والے اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو سڑکوں پر قتل کیا۔
میری انتظامیہ کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ یہ دہشت گرد حکومت کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتی۔ میں پھر کہتا ہوں: ان کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ اسی لیے گزشتہ جون میں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے ذریعے ہم نے فورڈو، نتنز اور اصفہان میں ان کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کر دیا تھا۔ ہم نے انہیں خبردار کیا تھا کہ وہ یہ کوششیں دوبارہ شروع نہ کریں اور بار بار معاہدہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ایران نے انکار کر دیا۔
اس کے بجائے، انہوں نے اپنے ایٹمی پروگرام کو دوبارہ بنانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کی جو یورپ میں ہمارے دوستوں اور خود امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ اگر اس حکومت کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو وہ کتنی نڈر ہو جاتی۔ ان وجوہات کی بنا پر، امریکی فوج ایک بڑے پیمانے پر آپریشن کر رہی ہے تاکہ اس بدکار اور انتہا پسند آمریت کو امریکہ اور ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے سے روکا جا سکے۔
ہم ان کے میزائلوں کو تباہ کر دیں گے اور ان کی میزائل انڈسٹری کو زمین بوس کر دیں گے۔ ہم ان کی بحریہ کو نیست و نابود کر دیں گے۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ خطے کے دہشت گرد آلہ کار اب دنیا کو غیر مستحکم نہ کر سکیں اور ہمارے فوجیوں پر سڑک کنارے نصب بموں (IEDs) سے حملے نہ کر سکیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے۔
اس حکومت کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ کسی کو بھی امریکی مسلح افواج کی طاقت کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اپنی فوج کو دوبارہ تعمیر کیا تھا اور زمین پر کوئی بھی فوج اس کی طاقت اور مہارت کے قریب بھی نہیں۔
میں یہ بات ہلکے انداز میں نہیں کہہ رہا ،ایرانی حکومت قتل کرنا چاہتی ہے۔ بہادر امریکی ہیروز کی جانیں جا سکتی ہیں اور ہمیں جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جیسا کہ جنگ میں ہوتا ہے۔ لیکن ہم یہ آج کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے کر رہے ہیں، اور یہ ایک عظیم مشن ہے۔اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC)، مسلح افواج اور پولیس کے ارکان سے میں آج کہتا ہوں: اپنے ہتھیار ڈال دیں اور مکمل تحفظ حاصل کریں، یا پھر یقینی موت کا سامنا کریں۔
آخر میں، ایران کے عظیم اور قابلِ فخر لوگو، میں کہتا ہوں کہ آپ کی آزادی کی گھڑی آ پہنچی ہے۔ اپنے گھروں میں رہیں، باہر نکلنا خطرناک ہے کیونکہ ہر جگہ بم گر رہے ہوں گے۔ جب ہم اپنا کام ختم کر لیں، تو اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں۔ یہ آپ کا ہوگا، اور شاید نسلوں میں یہ آپ کا واحد موقع ہے۔ کئی سال سے آپ نے امریکہ سے مدد مانگی لیکن کبھی نہیں ملی۔ اب آپ کے پاس ایک ایسا صدر ہے جو آپ کو وہ دے رہا ہے جو آپ چاہتے ہیں، تو اب دیکھتے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ امریکہ پوری طاقت کے ساتھ آپ کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اب وقت ہے کہ اپنی تقدیر خود سنبھالیں۔