ایرانی سفیر نے بتایا ایران پہلے بھی جنگ جاری رکھنا چاہتا تھا ، تجزیہ نگار جاوید صدیق
اگر امریکہ اور اسرائیل نے اپنی روش نہ بدلی تو یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ، تجزیہ
فائل فوٹو
اسلام آباد: سینئر صحافی اور تجزیہ نگار جاوید صدیق نے ‘امت ڈیجیٹل’ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان میں ایرانی سفیر کا موقف نہایت واضح ہے کہ ایران نے گزشتہ کشیدگی کے دوران جنگ روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی بلکہ وہ اسے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے تھے۔
جاوید صدیق کے مطابق ایرانی سفیر نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ جاری رکھنا چاہتا تھا، لیکن یہ امریکہ اور اسرائیل تھے جنہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UN Security Council) سے درخواست کی کہ اس جنگ کو رکوایا جائے۔جاوید صدیق نے خبردار کیا کہ اگر یہ جنگ پھیلتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نتیجہ تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی صورت میں نکلے گا۔ اس سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔
تجزیے کے مطابق اگر امریکہ اور اسرائیل نے اپنی روش نہ بدلی تو یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس صورتحال میں سعودی عرب، قطر، چین اور روس جیسے ممالک کو فوری مداخلت کرنی چاہیے تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
جاوید صدیق کا ماننا ہے کہ ایران کا مائنڈ سیٹ اب دفاعی کے بجائے جوابی کارروائی کی طرف مائل ہے، جو کہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔