پنجاب کے تجارتی مراکز میں فائرسیفٹی کی مخدوش صورت حال سامنے آگئی
راولپنڈی کے مصروف اور گنجان آباد تجارتی مرکز سٹی صدر روڈ پر آتشزدگی میں سنگین بے ضابطگیاں ظاہر
کراچی میں بدترین آتشزدگی سانحہ گل پلازہ کے بعد پنجاب میں فائرسیفٹی کی مہم شروع ہوئی تھی ۔اس دوران تجارتی عمارات کے آڈٹ اور جانچ پڑتال کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں لیکن عملی طورپر صورت حال اس وقت بدستور مخدوش ،روایتی غفلت کاشکار اور سنگین خلاف ورزیوں سے متاثر نظر آئی جب راولپنڈی کے مصروف اور گنجان آباد تجارتی مرکز سٹی صدر روڈ پر واقع ایک چار منزلہ پلازہ کے تہہ خانےمیں بدھ کی شام ساڑھے چھ بجے کے قریب خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جو 12 گھنٹے تک جلتی رہی۔ریسکیو 1122 کی جانب سے آگ بجھانے کا عمل رات بھر جاری رہا اور جمعرات کی صبح سپیدہ سحر کے وقت آگ پر قابو پا یاگیا۔
حکام کے مطابق ریسکیو 1122 کوسٹی صدر روڈ پر واقع شنگھائی پلازہ کے تہہ خانے میں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ ریسکیو ٹیمیں پانچ ہنگامی اور فائر بریگیڈ گاڑیوں کے ساتھ فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور آپریشن کا آغاز کیا۔ اس دوران چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی فرحان اسلم نے ہنگامی آپریشن کے باعث سٹی صدر روڈ کے متاثرہ حصے کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا اور متبادل راستوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے اہلکار تعینات کیے۔
کچھ ہی دیر میں عمارت کے بیرونی حصے کی آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم کولنگ آپریشن کے دوران آگ دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ تب معلوم ہوا کہ تہہ خانے میں بجلی کے آلات اور بورنگ سسٹم کے سامان کا گودام تھا، جہاں بڑی تعداد میں بورنگ موٹرز، ربڑ اور پلاسٹک کے پائپ اور تیل موجود تھا، جس کی وجہ سے آگ وہاں بھی پھیل گئی۔جب فائر فائٹرز نے گودام میں داخل ہونے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ وہاں صرف ایک ہی راستہ تھا جو بند تھا، اور آمد و رفت کا کوئی دوسرا راستہ یا وینٹیلیشن (ہوا کی نکاسی کا نظام) موجود نہیں تھا۔ اس صورتحال نے آگ پر فوم اور کیمیکل ملا پانی ڈالنے کے عمل میں شدید مشکلات پیدا کیں۔
حکام نے انکشاف کیا کہ پلازہ اور گودام میں فائر سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی تھی۔ نہ تو وہاں ایمرجنسی ایگزٹ تھا، نہ فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر یا آگ بجھانے کا کوئی انتظام موجود تھا۔ ریسکیو ٹیموں نے تہہ خانے سے دھواں نکالنے کے لیے چھت میں آٹھ مختلف مقامات پر سوراخ کیے او ر سموک ایجیکٹرمشینیں نصب کیں۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرانجینئر صبغت اللہ نےبتایا کہ 10 سے 12 مرلے پر محیط اس پلازہ میں حفاظتی انتظامات کے فقدان اور آتش گیر مادے کی موجودگی نے آپریشن کو مشکل بنایا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان عثمان گجر کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے گیٹ کاٹ کر اور چھت کے مختلف حصوں کو توڑ کرمتاثرہ اندرونی حصے تک رسائی حاصل کی۔ تقریباً 50 فائر فائٹرز اور 13 گاڑیوں نے 12 گھنٹے تک جدوجہد کی۔