”میزائلوں پر ٹاکی شاکی پھیری کہ نہیں؟”شمالی کوریاکے رہنما پردلچسپ سوشل میڈیا تبصروں کا طوفان
ساری دنیاکی بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے لڑچکی ہیں یا لڑرہی ہیں ، کوئی نہیں لڑتاتو کم جونگ سے نہیں لڑتا
شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان۔ تصویر: سوشل میڈیا
ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن سوشل میڈیاپر صارفین کے دلچسپ تبصروں اور میمزکا موضوع بن گئے۔لوگ انہیں بھی کسی جنگ کے طلب گار اور متلاشی قراردے رہے ہیں۔
اس ٹرینڈ کاپس منظر شمالی کوریاکی ایٹمی طاقت اور ہمہ گیرمیزائل پروگرام ہے۔ان کے بارے میں کہا جارہاہے کہ ساری دنیاکی بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے لڑچکی ہیں یا لڑرہی ہیں ، کوئی نہیں لڑتاتو شمالی کوریاسے نہیں لڑتا۔اس حوالے سے صارفین رنگارنگ مزاحیہ جملے اور تصاویر شائع کررہے ہیں۔
شمالی کوریائی رہنما کی ایک ایسی تصویر بھی وائرل ہے جس میں وہ ایک آپریٹنگ بٹن لے کرگھومتے اور اٹھتے بیٹھتے نظر آتے ہیں۔ کہا جارہاہے کہ وہ ملکی ساختہ میزائلوں کا بٹن ہے،جسے کم جونگ ہر وقت اپنے پاس رکھتے ہیں۔
معروف دانشور اقبال خورشیدنے ایک پوسٹ میں لکھاہے کہ وہ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ ٹرمپ نے خواب میں مجھے برا بھلا کہا ہے، مگر وہ حقیقی شواہد کے بغیر کبھی حملہ نہیں کرے گا۔ اصل لیڈر۔
اے آر رائٹس نامی اکائونٹ نے کم جونگ سے منسوب تبصرہ کیا کہ کسی لاہوری سے رابطہ کرو، اگروہ میزائل کو غلط راستہ بتاکر ادھر بھیج دے تو میرا کام بن جائے گا۔
سائرہ احمد کا کہناہے کہ شاباش! ٹاکی شاکی مار کے رکھو۔ریموٹ میرے ہتھ چے میں باہر گیڑہ مار کے آنا کسے نو ساڈا خیال آیا کے نئیں..
گرلزڈائری کی وال پر تبصرے میں لکھاگیاہے کہ دنیاکا اکلوتاپھنے خان جو ایٹم بم کوکندھے پر رکھ کرپھرتاہے لیکن امریکہ اور اسرائیل اس کی طرف دیکھتے ہی نہیں۔ ببلو بھائی عرف بمباں والی سرکار۔
سوشل میڈیاپر سب سے دلچسپ تبصرہ یہ ہے۔ جس میں کم جونگ کہہ رہے ہیں کہ ایسا کرو بس ڈونلڈ اور نیتن کا فیک اکائونٹ بناکر مجھے چھوٹی سی گالی دے دو ۔اسے بڑی تعدادمیں صارفین نے شیئر کیا ہے۔
کسی منچلے نے لکھا :خبرچلائو ایران جاتے ہوئے امریکن میزائل کا دھواں ہمارے ملک میں آرہاہے، قوم جنگ کے لیے تیار رہے۔
ایک اور ظریفانہ ٹکڑا جسے ایم نعیم اختر نے شیئر کیا ہے:شمالی کوریا کے اس بانکے کم جونگ ان کا مزاج آج کل بہت بگڑا ہوا ہے۔ گزشتہ چار دن سے دن میں کئی کئی بار اپنے سٹاف سے پوچھتا ہے کہ تہران سے کسی کی کال تو نہیں آئی؟ اس کے بعد پوچھتا ہے : میزائلوں پر ٹاکی شاکی پھیری کہ نہیں؟اٹھتا ہے، دفتر میں ٹہلتا ہے، کرسیوں کو ٹھڈے مارتا ہے، چائے کی کراکری کو ہاتھ مار کر میز سے گراتا ہے ۔۔۔ اور امریکا کو دس بارہ ننگی گالیاں دے کر اسٹاف سے پوچھتا ہے : اوئے تہران سے کسی نے مدد کے لئے پکارا ہے کہ نہیں؟
ایک اور جملہ کم جونگ سے منسوب کیا گیاہے جس کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ پاکستانیو تم تو جگاڑ لگانے میں ماہر ہو میرا کسی طرح ٹرمپ سے پنگاکرا دو ۔
اس حوالے سے ایک تصویر ایسی ہے جس میں کم جونگ کمانڈسنٹر میں ایک اہل کار کے پاس بیٹھے ہیں اور وہ بتارہاہے کہ سر کسی میزائل نے ابھی تک ہماری طرف رخ نہیں کیا۔ اس کے جواب میں کم اسے کہتے ہیں ریفریش کرو۔