نسوانی پارلیمانی نمائندگی بڑھنے کی رفتار میں ایشیائی ملک سب سے آگے

عالمی سطح پر نمائندگی 27.5فیصد۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 0.3فیصد

               
March 7, 2026 · امت خاص

بین الپارلیمانی یونین۔ آئی پی یو

 

براعظم ایشیا نسوانی پارلیمانی نمائندگی بڑھانے کی رفتارمیں سب سے آگے ہے۔اقوام متحدہ کے تعاون سے بین پارلیمانی یونین(آئی پی یو)کی نئی رپورٹ کے مطابق کرغیزستان میں خواتین ارکان پارلیمان کی تعداد میں سب سے زیادہ 12.9 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے بعد غرب الہند کے ملک سینٹ ونسنٹ اینڈ گرینیڈیئنز میں 12.3فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

 

دنیا بھر کے پارلیمانی اداروں میں خواتین کی نمائندگی 27.5فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 0.3فیصد اور ایک دہائی میں سب سے سست رفتار اضافہ ہے۔البتہ پارلیمانی قیادت میں خواتین کی تعداد کم ہوئی ہے اور نئے75سپیکر میں صرف 12خواتین تھیں۔

 

امریکی براعظموں کے پارلیمانی اداروں میں خواتین کی نمائندگی سب سے زیادہ 35.6فیصد ہے۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال 49ممالک میں انتخابات میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے میں کوٹہ سسٹم کا نمایاں کردار تھا۔ جن پارلیمانی ایوانوں میں اس حوالے سے کوئی قانون یا کوٹہ موجود تھا وہاں خواتین کی اوسط نمائندگی 31فیصد رہی ۔ کوٹہ نہ ہونے کی صورت میں یہ شرح 23 فیصد ریکارڈ کی گئی۔مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں خواتین کی پارلیمانی نمائندگی سب سے کم ہے جہاں پارلیمانی اداروں میں خواتین کے پاس اوسطا 16.2 فیصد نشستیں ہیں۔ تین ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پارلیمان کے ایوان زیریں یا واحد ایوان میں ایک بھی خاتون رکن موجود نہیں۔ ان میں عمان ، تووالو اور یمن شامل ہیں۔

خواتین ارکان پارلیمان کو مردوں کے مقابلے میں عوامی سطح پر دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا بھی زیادہ کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات میں خواتین ارکان مردوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ 76 فیصد خواتین ارکان نے بتایا ہے کہ انہیں کبھی نہ کبھی تشدد یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ مرد ارکان میں یہ شرح 68 فیصد تھی۔ یہ بڑھتا ہوا منفی رجحان بعض خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے سے گریز کا سبب بن سکتا ہے اور اس طرح سیاست میں خواتین کی نمائندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

 

اٹلی کی رکن پارلیمان اور آئی پی یوکے یورپی وفد سے وابستہ ویلنٹینا گریپو کا کہنا ہے کہ اگر خواتین سیاست دان کوئی ایسی بات کہہ دیں جو سامعین کی توقعات کے مطابق نہ ہو تو انہیں فورا کئی طرح کے حملوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض ممالک نے اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات بھی کیے ہیں۔ کولمبیا اس کی نمایاں مثال ہے جہاں پارلیمان نے خواتین سیاست دانوں کے خلاف تشدد کو روکنے اور اس پر سزا دینے کے لیے ایک قانون کی منظوری دی ہے۔

ٹیگز: