اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

اجلاس اسٹیٹ بینک کے گورنر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، مہنگائی کے رجحانات اور عالمی معاشی حالات کا جائزہ لیا گیا۔

               
March 9, 2026 · کامرس

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 9 مارچ 2026 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، مہنگائی کے رجحانات اور عالمی معاشی حالات کا جائزہ لیا گیا۔

معاشی ماہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں شرح سود میں کمی کے امکانات محدود ہیں، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث مرکزی بینک محتاط پالیسی اختیار کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مہنگائی کے خدشات کے پیش نظر پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا معیشت میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کی نظریں اس فیصلے پر مرکوز تھیں کیونکہ مانیٹری پالیسی کے اثرات اسٹاک مارکیٹ، کاروباری سرگرمیوں اور قرضوں کی لاگت پر براہِ راست پڑتے ہیں۔

یاد رہے کہ سال 2026 کی پہلی مانیٹری پالیسی 26 جنوری کو جاری کی گئی تھی۔