آبنائے ہرمزالیکٹرانک جنگ کا محاذ ۔ بحری جہازوں کے جی پی ایس جام
مسئلہ یہ نہیں کہ آپ کو اپنی منزل کا نہیں معلوم، بلکہ یہ ہے کہ آپ کو یہ نہیں معلوم باقی کہاں جا رہے ہیں
ہرمزمیں جی پی ایس جیمنگ
آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں بحری جہازوں کے جی پی ایس غیر معمولی طور پر جام ہو گئے۔اس کے نتیجے میں سیکڑوں بحری جہاز سب کے سب غلط جگہ پر ظاہرہوئے۔ ونڈورڈ (Windward) نامی بحری مصنوعی ذہانت (AI) کمپنی کی سینئر میری ٹائم انٹیلیجنس اینالسٹ، مشیل ویز بوک مین کا، ایران، متحدہ عرب امارات اور قطر کے پانیوں میں تجارتی جہازوں کی لائیو پوزیشنز چیک کرنے کے دوران ہرمز کے آبنائے اور گردونواح کا نقشہ دیکھتے ہوئےکہناتھاکہ میں اب تک 35 مختلف کلسٹرز (گروہ) گن چکی ہوں۔ ان کلسٹرز سے مراد نقشے پر شبیہوں (icons) کے وہ دائرے ہیں جہاں ہر شبیہ ایک حقیقی جہاز کی نمائندگی کرتی ہے۔لیکن بحری جہاز اس طرح غیر فطری طور پر مکمل دائروں میں اکٹھے نہیں ہوتے، اور نہ وہ زمین کے اوپر تیرتے ہیں،کچھ کلسٹر زمین پر دکھائی دے رہے ہیں۔ دراصل ان کے جی پی ایس (GPS) سگنلز میں خلل ڈال کر ان کے حقیقی مقام کو چھپایا گیا تھا۔
جنگیں صرف گولیوں اور بموں سے نہیں لڑی جاتیں، برقی مقناطیسی لہریں بھی میدانِ جنگ بن چکی ہیں۔ جی پی ایس جیمنگ (GPS Jamming) مواصلات میں خلل اور جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
حالیہ برسوں میں جی پی ایس جیمنگ نے یورپ میں طیاروں کو متاثر کیا ہے اور اب مشرق وسطیٰ میں تنازع بھڑکنے کے ساتھ ہی یہ الیکٹرانک جنگ مزید علاقوں تک پھیل رہی ہے۔ بوک مین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پہلے بھی ایسا ہوا ہے، لیکن اس بار یہ اگلے درجےکی کارروائی ہے جو جہاز رانی کی حفاظت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔
پاکستان کے نیشنل ہائیڈرو گرافک آفس نے بھی خطے میں جہاز رانی کو متاثر کرنے والی اس مداخلت کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
بحری جہاز ایک دوسرے سے ٹکرانے سے بچنے کے لیے AIS کا استعمال کرتے ہیں۔ رات کے وقت یا کم بصارت میں اگر آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ قریبی جہاز کہاں ہیں، تو تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف سرے کے ایلن ووڈورڈ کہتے ہیں کہ مسئلہ یہ نہیں کہ آپ کو اپنی منزل کا نہیں معلوم، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو یہ نہیں معلوم کہ باقی سب کہاں جا رہے ہیں۔
اگرچہ سرکاری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن فوجی تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ ایران اس خلل کے پیچھے ہے، جس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایران روسی یا چینی سازوسامان سے تیار کردہ جیمنگ ٹولز استعمال کر رہا ہے، مریکی افواج بھی اپنے دفاع کے لیے جیمنگ سسٹمز کے استعمال میں ملوث ہو سکتی ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہر شان گورمین نے سیٹلائٹ ریڈار ڈیٹا کے ذریعے ایران میں اس جیمنگ کا پتہ لگایا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جیمنگ آلات ریڈار سگنلز پر اپنے نشانات چھوڑتے ہیں جن سے ان کے مقام کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
اس جیمنگ سے بچنے کے لیے ریتھیون (Raytheon) جیسی کمپنیاںاینٹی جیم آلات بنا رہی ہیں،ایڈوانسڈ نیویگیشن جیسی کمپنیاں متبادل طریقے (جیسے ستاروں کے نقشے یا آپٹیکل امیجری) تیار کر رہی ہیں جو جی پی ایس کے بغیر کام کر سکیں۔
رائل انسٹی ٹیوٹ آف نیویگیشن کے ڈائریکٹر رمزی فاریگر کا کہنا ہے کہ جی پی ایس کے سگنل بہت کمزور ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں آسانی سے جام کیا جا سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مستقبل میں ہمیں جی پی ایس کے زیادہ محفوظ اور انکرپٹڈ ورژن کی ضرورت پڑے گی۔ رمزی کے مطابق جلد ہی ہم اس دور کو مڑ کر دیکھیں گے جب ہم کھلے جی پی ایس سگنلز استعمال کرتے تھے اور سوچیں گے کہ ہم کتنے نادان تھے، وہ واقعی کوئی عقلمندانہ قدم نہیں تھا۔