پاکستان نے کابل میں افغان طالبان سے مذاکرات کی خبروں کو مسترد کردیا

جب تک افغان طالبان 'فتنۃ الخوارج کی سہولت کاری بند نہیں کرتے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ذرائع

               
March 10, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستانی حکام نے ان رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے بھیجا گیا تین رکنی وفد سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کابل میں افغان طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر “افغان پروپیگنڈا اکاؤنٹس” کے ذریعے ایسے بے بنیاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ افغان میڈیا ہاؤس ‘طلوع نیوز’ نے بھی گمنام ذرائع کے حوالے سے ایسی ہی خبر نشر کی تھی۔

ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کا موقف انتہائی شفاف ہے، جب تک افغان طالبان ‘فتنۃ الخوارج’ (کالعدم تحریک طالبان پاکستان – TTP) کی سہولت کاری بند نہیں کرتے اور ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں ہوتی، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

پاکستان کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ 2021 میں طالبان کے برسرِاقتدار آنے کے بعد سے ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین میسر ہے، جس کی تصدیق اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی کر چکی ہیں، تاہم افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ‘فتنۃ الخوارج’ کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور دہشت گردی کے خاتمے تک مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔