عمران خان کی بہنیں قیادت پر کیوں برہم ؟ لطیف کھوسہ نے وجہ بتا دی

پارٹی قیادت، بشمول بیرسٹر گوہر قانونی اور سیاسی میدان میں اس طرح سرگرم کیوں نہیں ہیں جیسا انہیں ہونا چاہیے تھا ، گفتگو

               
March 11, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور ممتاز قانون دان سردار لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کی جانب سے پارٹی قیادت پر کی جانے والی حالیہ تنقید اور برہمی کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں، خصوصاً علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی تشویش اور غصہ مکمل طور پر جائز ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایک بہن کا رشتہ ماں جیسا ہوتا ہے اور انہیں اپنے بھائی کی صحت اور قانونی معاملات پر آواز اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔

لطیف کھوسہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی ناراضگی کے پیچھے درج ذیل اہم عوامل کارفرما ہیں:

لطیف کھوسہ نے بتایا کہ عمران خان کی بہنیں اپنے بھائی کی جیل میں گرتی ہوئی صحت کے حوالے سے شدید فکر مند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تین بار ‘فوڈ پوائزننگ’ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے اہل خانہ میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔

علیمہ خان نے حال ہی میں پارٹی قیادت، بشمول بیرسٹر گوہر اور دیگر سینیئر رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا تھا کہ وہ قانونی اور سیاسی میدان میں اس طرح سرگرم کیوں نہیں ہیں جیسا انہیں ہونا چاہیے تھا۔ بہنوں کا موقف ہے کہ پارٹی قیادت اہم فیصلوں اور قانونی پیش رفت کے حوالے سے اہل خانہ کو اعتماد میں نہیں لے رہی، جس کی وجہ سے ایک خلیج پیدا ہوئی ہے۔

 لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ عمران خان کی بہنیں چاہتی ہیں کہ ان کے اپنے معالجین کو بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ انہیں سرکاری ڈاکٹروں پر دباؤ ہونے کا خدشہ ہے۔