2ہزارسال پہلے مصری فرعونوں کے مقبروں پر اپنے نام لکھنے والے ہندستانی

یہ قبرستان شاہوں کی وادی کہلاتاہے جو توتن خامن سمیت اشرافیہ کی مقدس تدفین گاہ ہے

               
March 12, 2026 · امت خاص

مصری فراعین کے قبرستان میں ہندستانی نام کندہ

 

دیواروں پر نام لکھنا اچھی عادت نہیں لیکن ہندوستان کے ایک شخص نے دو ہزار سال پہلے مصر میں دیواروں پر جابجا اپنا نام لکھا اور اب یہ ایک اہم تاریخی ورثہ بن گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے برصغیر کے لوگوں میں نام لکھنے کایہ مرض کافی پرانا ہے۔ بہر حال کہانی ہے تامل ناڈو کے ۔

 

تقریباً2 ہزارسال پہلے، ہندوستان سے تعلق رکھنے والے سیکائی کورن نامی ایک شخص نے مصری فرعونوںکے قبرستان میں ، کئی مقامات پر چٹانی مقبروں کے اندر اپنا نام کھود کر لکھا تھا۔

 

یہ قبرستان شاہوں کی وادی (Valley of the Kings) کہلاتاہے جو توتن خامن سمیت اشرافیہ کی مقدس تدفین گاہ ہے۔

 

کورن کی یہ تحریریں، جو قدیم تمل زبان میں ہیں، پانچ مقبروں میں آٹھ بار نظر آتی ہیں۔ اس کے ارد گرد اسی طرح کی دیگر تحریریں بھی موجود ہیں جو پہلی اور تیسری صدی عیسوی کے درمیان کی ہیں۔ مجموعی طور پر، چار ہندوستانی زبانوں میں لکھی گئی یہ تقریباً 30 تحریریں، چھ مقبروں کے اندر ملی ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہیں کہ جنوبی ایشیا کے لوگ قدیم مصر کا دورہ کرتے تھے۔

 

سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف لوزان کے اسکالر انگو اسٹراؤچ کے مطابق، قدیم بندرگاہی شہروں میں ملنے والی دیگر تحریروں کے ذریعے ہمیں معلوم تھا کہ تامل ناڈو کے تاجرمصر آتے تھے۔ لیکن یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ وہ صرف بحری جہازوں کے ساتھ آکر واپس نہیں چلے جاتے تھے، بلکہ وہ طویل عرصے تک یہاں قیام بھی کرتے تھے۔ انہوں نے ان مقامات کی سیر کے لیے بھی وقت نکالا جو بہت دور واقع تھے۔

 

یہ دریافت محض ایک اتفاق تھا۔ اسٹراؤچ شاہوں کی وادی کی سیر کر رہے تھے جب وہ یونانی جیسی دیگر دستاویزی تحریروں کے درمیان ہندوستانی زبانیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے کچھ نیا دریافت کر لیا ہے۔ ان 30 میں سے 20 تحریریں تامل میں ہیں، دیگر سنسکرت، پراکرت اور گندھاری،کھروشی زبانوں میں ہیں۔

 

ماہرینِ کا کہنا ہے کہ ان تحریروں کے اب تک نہ پہچانے جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے کسی ماہرِ لسانیات کی نظر ان پر نہیں پڑی تھی۔

 

کورن کی تحریریں محققین کے لیے اس لیے بھی نمایاں تھیں کیونکہ وہ انتہائی مشکل اور اونچی جگہوں پر لکھی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر، رعمسیس نہم (Ramses IX) کے مقبرے کے اندر، کورن کی تحریر داخلی راستے سے 16 سے 20 فٹ اوپر لکھی ہوئی ہے۔

 

مصری مقابر کی تحریروں میں سنسکرت میں’’اندرانندن‘‘نام بھی سامنے آیا، جس نے خود کو راجہ کشہاراتا کا سفیر بتایا، جو پہلی صدی عیسوی میں مغربی ہندوستان پر حکمرانی کرنے والا ایک خاندان تھا۔

 

محققین اس بات پر بھی حیران تھے کہ کچھ تحریریں ایک دوسرے سے مکالمہ کرتی نظر آتی ہیں۔ ایک مقبرے کے اندر، سنسکرت اور تامل تحریریں ایک یونانی تحریر کا حوالہ دیتی ہیں، جو اس دور میں مختلف ثقافتوں کے درمیان میل جول کی نشاندہی کرتی ہے۔