مہنگے میزائلوں سے زیادہ کارگرسستےایرانی’شاہد’ ڈرون ۔امریکہ کے پاس توڑ کیاہے؟

ٹرمپ کے مطابق لیزر جلد ہی پیٹریاٹ میزائلوں کا کام بہت کم قیمت پر کرنے کے قابل ہو جائیں گے

               
March 13, 2026 · امت خاص

شاہد ڈرون

 

 

کیا امریکہ کے پاس ایران کے شاہد ڈرون کا کوئی توڑ موجود ہے، کیا چند ہزار ڈالر کے ایرانی ڈرون کو گرانے کیلئے لاکھوں ڈالر کا میزائل فائر کرنا ضروری ہے یا پھر کوئی اور راستہ بھی ہے۔ حقیقت میں امریکہ کے پاس ایک ایسا ہتھیار موجود ہے جو یہ کام پانچ ڈالر میں کر سکتا ہے لیکن اسے استعمال نہیں کیا جا رہا اور اس کی بھی ایک وجہ ہے۔

 

ایران کے شاہد ڈرون کے بارے میں بتایاگیاہے کہ اسے تباہ کرنے کیلئے امریکہ لاکھوں ڈالر کے میزائل داغنے پر مجبور ہے اور جنگ میں بھاری نقصان اٹھا رہا ہے۔

 

مشرقِ وسطی میں تیل کی ریفائنریوں اور امریکی اڈوں پر ایرانی ڈرونز اور میزائلوں سے دفاع کے لیے ہائی انرجی لیزرزکو کم خرچ طریقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق، لیزر کا ایک شاٹ چلانے پر 3.50ڈالرلاگت آتی ہے، اس کے مقابلے میں ‘پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز’ جیسے نظام کے ذریعے ایک ڈرون کو مار گرانا 30لاکھ ڈالر سے زیادہ میں پڑتا ہے۔

 

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں صحافیوں کو بتایاتھا کہ لیزر جلد ہی پیٹریاٹ میزائلوں کا کام بہت کم قیمت پر کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس اب جو لیزر ٹیکنالوجی ہے وہ ناقابل یقین ہے، یہ بہت جلد سامنے آ رہی ہے۔

 

اس طرح لیزر استعمال کرنے کا خیال نیا نہیں۔ امریکی فوجی حکام نے دہائیوں سے اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا مقصد ایک ایسا ہتھیار بنانا ہے جو روشنی کی رفتار سے ہدف کو نشانہ بنا سکے اور جس کا گولہ بارود کبھی ختم نہ ہو۔ اسرائیل اور چین سمیت دیگر ممالک نے بھی اپنے ہائی پاور لیزر لانچ کیے ہیں۔ تاہم، امریکی فوج کو بڑے پیمانے پر ان کی تیاری اور تعیناتی میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

 

دفاعی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کو اس طرح لیزر استعمال کرنے میں ابھی برسوں لگ سکتے ہیں۔

 

ہائی انرجی لیزر روشنی کی شعاعوں کو ڈرون کے کمزور حصوں پر مرکوز کرتے ہیں، جس سے اس کے پرزے اس طرح جل جاتے ہیں جیسے فاصلے سے کوئی بلو ٹارچ (blowtorch) استعمال کی جا رہی ہو۔ ڈائریکٹڈ انرجی پروفیشنل سوسائٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ اسٹاٹ، جنہوں نے عراق میں آئی ای ڈی (IEDs)کا مقابلہ کرنے والا آلہ ایجاد کرنے میں مدد کی تھی، کہتے ہیں کہ جس طرح ایک میگنیفائینگ گلاس سورج کی شعاعوں کو مرکوز کر کے آگ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی طرح لیزر کو بھی ایک خاص وقت تک ابر آلود حالات میں تین سیکنڈتک یا اس سے زیادہ ،ہدف پر مرتکزرہنا پڑتا ہے۔ اس سے خراب موسم یاغول کی صورت میں ڈرون حملے کے خلاف ان کی تاثیر پر سوالات اٹھتے ہیں۔

 

ملٹری ٹیکنالوجی پر ‘لیزر وارز’ نیوز لیٹر کے مصنف جیرڈ کیلرکے مطابق یہ اسٹار ٹریک نہیں جہاں آپ کا ہدف فورا ًراکھ بن جاتا ہے۔ لیزر کوئی جادو نہیں ، انہیں فزکس کے قوانین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

ہائی انرجی لیزرز مناسب حالات میں طاقتور ہتھیار ہیں، لیکن یہ ہر مسئلے کا حل نہیں ۔ نمی روشنی کی شعاعوں کو غیر متوقع طریقوں سے موڑ سکتی ہے۔ دھند لیزر شعاعوں کو ہدف تک پہنچنے سے روک سکتی ہے۔ سمندری پانی کی پھوار اور ریت ان کے انتہائی حساس آپٹیکل پرزوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے میدانِ جنگ میں ان کا استعمال یا مرمت مشکل ہو جاتی ہے۔

 

2024 میں عراق میں امریکی اڈوں کے دفاع کے لیے 50 کلو واٹ کے چارلیزرز نصب کیے گئے تھے، لیکن ایک رپورٹ کے مطابق، فوجیوں نے ان ہتھیاروں کے استعمال کو بوجھل اور غیرموثرپایا۔

 

این لائٹ (nLight)کمپنی کے سی ای او اسکاٹ کینی کا کہنا ہے کہ لیزر ٹیکنالوجی نے خاصی ترقی ضرورکی ہے لیکن اسے ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ 100کلو واٹ کے لیزر میں اوسط کار کے مقابلے میں آدھی ہارس پاور ہوتی ہے، لیکن جب اسے ایک تنگ شعاع میں مرکوز کیا جائے تو یہ طیارے کے انجن کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ تاہم، لیزر کا استعمال سویلین زندگی میں بھی خلل ڈال سکتا ہے، جیسا کہ حال ہی میں ایل پاسو ایئرپورٹ کی بندش سے ظاہر ہوا۔ طیارے کی طرف لیزر کا رخ کرنا پائلٹ کو متاثرکر سکتا ہے، جس سے مسافروں کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ گزشتہ سال فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کو لیزر کے تقریباً 11ہزار واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

 

اسرائیل لیزرز کے تجربات کر رہا ہے۔ رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمزکا بنایا ہوا ‘آئرن بیم’ (Iron Beam)نامی نظام ایک بڑی تیکنیکی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا تازہ ترین ورژن ابھی موجودہ جنگ میں استعمال کے لیے تیار نہیں ۔ آسٹریلوی کمپنی نے جنوبی کوریا کو لیزر فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے، اور یوکرینی ‘سن رے(Sunray)نامی چھوٹے لیزر کی وجہ سے توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ چین نے ستمبر میں ایک بحری جہاز پر اپنا 180 کلو واٹ کا لیزر ‘LY-1’ پیش کیا تھا۔

 

اگرچہ لیزر فائر کرنا سستا ہے، لیکن ان کو سنبھالنے والے سسٹم بہت مہنگے ہیں۔ لاک ہیڈ مارٹن کو 2018 میں دو پروٹو ٹائپ بنانے کے لیے 15 کروڑ ڈالر کا ٹھیکہ ملا تھا۔ اس کا نتیجہ ‘HELIOS’کی صورت میں نکلا جو جاپان میں تعینات ایک بحری جہاز پر نصب ہے۔ بحریہ ابھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ نمکین پانی اور نمی کے خلاف اس کے نازک پرزے کتنی دیر ٹھہر سکتے ہیں۔

 

بڑے پیمانے پر پیداوار ایک چیلنج بن سکتی ہے۔ ہائی انرجی لیزر بنانے کے لیے شیشے میں ‘ایٹربیم’ (ytterbium) جیسی نایاب دھات شامل کی جاتی ہے، اور معدنیات پر چین کا سخت کنٹرول ہے۔ اسی طرح ان میں استعمال ہونے والے سیمی کنڈکٹرز ‘گیلیم’ (gallium) سے بنتے ہیں، یہ بھی زیادہ تر چین میں پیدا ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ان اجزا کی کمی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پیداوار میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔