ایران سے روسی اور چینی تعاون کی چونکادینے والی تفصیلات سامنے آگئیں
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہےکہ خطے میں امریکہ کے تقریباً 10 جدید ریڈار سسٹم تباہ کر دیے گئے ہیں
تل ابیب پر جمعہ 13 مارچ کو ایک فیکٹری نما عمارت پر ہونے والے حملے کے بعد آگ لگی یے
ایران کو روس اور چین سے جنگ کے دوران جو تعاون مل رہاہے اس کی چونکادینے والی تفصیلات سامنے آگئیں۔الجزیرہ کے مطابق، پینٹاگون حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ ایرانی حملوں نے براہِ راست ان تنصیبات کو نشانہ بنایا جن کے کوآرڈینیٹس کسی عوامی نقشے پر موجود نہیں ۔
روس کی انٹیلی جنس فراہمی نے ایران کو امریکی اور اسرائیلی اثاثوں کا اس درستی کے ساتھ پتہ لگانے میں مدد دی ہے جو تہران تنہا حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ ایران کے پاس جاسوسی سیٹلائٹس کا نیٹ ورک محدود ہے، لیکن روس کو ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ۔ اس کا Kanopus-V سیٹلائٹ (جسے ایران کے لیےخیام کا نام دیا گیا) تہران کو چوبیس گھنٹے آپٹیکل اور ریڈار تصاویر فراہم کرتا ہے۔ ایران کے لیے یہ محض ایک اضافی سہولت نہیں، بلکہ یہ اس کے لیےدرست نشانے لگانے کی صلاحیت کا اعصابی نظام ہے۔
چین کا کردار خاموش مگر اتنا ہی اہم ہے۔ چین نے ایران کے الیکٹرانک وارفیئر کے منظر نامے کو بدلا ہے۔ایران کو امریکی GPS کے متبادل اپنےبیڈو-3 (BeiDou-3) نیٹ ورک پر منتقل کیا اور اسے جدید ریڈار سسٹم فراہم کیے۔
ریٹائرڈ اسرائیلی بریگیڈیئر جنرل آموس یادلن کے مطابق اگر ایران دشمن کا پتہ لگانے میں چند منٹ بھی بچا لیتا ہے، تو یہ فضاؤں کا توازن بدل دیتا ہے۔ چین نے پورےکل چین (Kill Chain) کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
چینی ساختہ اینٹی اسٹیلتھ ریڈار لو فریکوئنسی لہروں کا استعمال کرتا ہے جو امریکی اسٹیلتھ طیاروں (جیسے B-21 اور F-35C) کی پوشیدگی کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
روئٹرزکے مطابق، ایران پچاس CM-302سپرسانک اینٹی شپ میزائل حاصل کرنے کے قریب ہے، جنہیں کیرئیر کلر(بحری بیڑوں کا شکاری) کہا جاتا ہے۔ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اس وقت ان میزائلوں کی زد میں ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل خاموش نہیں بیٹھے۔ وہ ایرانی قیادت کی نقل و حرکت اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈ سینٹرز کی نقشہ سازی کر رہے ہیں۔ آپریشن ‘رورنگ لائن اور ایپک فیوری کے ابتدائی مراحل میں ایران کے ریڈار انفراسٹرکچر کو جس رفتار سے تباہ کیا گیا، اس نے تہران کے دفاعی نظام کی کمزوری کو ظاہر کر دیا۔تاہم، پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خطے میں امریکہ کے تقریباً 10 جدید ریڈار سسٹم تباہ کر دیے ہیں۔اگر یہ جزوی طور پر بھی درست ہے، تو سمجھ آتا ہے کہ ایرانی میزائل اسرائیل اور خلیجی دارالحکومتوں تک کیسے پہنچے۔
دہائیوں سے خلیج میں امریکہ اور اسرائیل کی تیکنیکی برتری قائم تھی، جو اب چینی ہارڈویئر اور روسی انٹیلی جنس کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہے۔ ایک سینئر امریکی کمانڈر کے مطابق، اب سگنلز نئی گولیاں ہیں۔
سی آئی اے کے سابق افسر بروس ریڈل نے ایک بار کہا تھا کہ جدید جنگ میں کوآرڈی نیٹس (درست مقام) اکثر گولیوں سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ جو جانتا ہے کہ دشمن کہاں ہے، وہ جیت جاتا ہے۔ یہ اصول اب خلیج میں عملی طور پر نظر آ رہا ہے۔
خلیج پہلا ایسا میدان بن رہا ہے جہاں الیکٹرانک وارفیئر روایتی طاقت سے زیادہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ روس اور چین تہران کی مدد کے لیے اپنی فوجیں نہیں بھیج رہے، بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ پائیدار کام کر رہے ہیں: وہ ایران کو ’’دیکھنا‘‘سکھا رہے ہیں۔