ٹکر سے زوردار دھماکہ ہونے کے بعد ٹرین کی بوگیاں دھویں سے بھر گئیں، ہر طرف اللہ اکبر کی صدائیں تھیں۔ عینی شاہد
ریلوے سکھر ڈویژن کے عملے نے فوراً جائے حادثہ پر ایک انجن روانہ کیا
سندھ میں مسافر ٹرین حادثے کے ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ گاڑی تقریبا”90 کی سپیڈ میں تھی ، ٹکر سے ایک زوردار دھماکا ہوا اور بوگیاں دھوئیں سے بھر گئیں، ہر طرف چیخ و پکار اور اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہو رہی تھی۔ اپنی نشستوں سے نیچے گر نے کے باعث متعدد افراد زخمی ہوئے۔
متاثرہ گاڑی کے مسافر کا کہنا تھا کہ ٹرین کا انجن اور 2 بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔دونوں ڈبے کارگو سامان سے بھرے تھے۔ مال گاڑی کے 4 ڈبے بھی تباہ ہوئے۔دھماکے کی اواز سن کر اس پاس کے لوگ فوراً مدد کو پہنچے ۔ لوگوں نے متاثرہ گاڑی کے مسافروں کے ساتھ بہت تعاون کیا۔
پاکستان ریلوے خصوصا”سکھر ڈویژن (جس علاقے میں یہ حادثہ ہوا ) کے عملے نے فورا” جائے حادثہ پر ایک انجن روانہ کیا اور ٹرین کو پچھلے اسٹیشن بھریا روڈ پر لا کر دوبارہ دوسرے ٹریک سے منزل پر روانہ کر دیا ۔اتنی تیز رفتاری سے آپریشن مکمل کرنے پر سکھر ڈویزن کے ملازمین اور افسران کو گاڑی کے تمام مسافر۔سلام پیش کرتے ہیں ۔لیکن وزیر ریلوے حنیف عباسی سے مطالبہ ہے کہ جن ملازمین کی نااہلی سے یہ حادثہ پیش آیا ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔