نیتن یاہو کی کافی شاپ والی ویڈیو بھی مصنوعی ذہانت سے بنی نکلی؟
سوشل میڈیا صارفین نے کافی کپ کے حوالے سے سوالات اٹھا دیئے
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری قیاس آرائیوں کو دبانے کے لیے ان کے دفتر نے ایک تازہ ویڈیو جاری کی ، تاہم اس ویڈیو نے شکوک و شبہات کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا ہے۔ بہت سے مبصرین اور تکنیکی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ ویڈیو “ڈیپ فیک” یا اے آئی (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔
ویڈیو میں نیتن یاہو کو ایک کافی شاپ میں بیٹھے دکھایا گیا ہے جہاں وہ اپنی موت کی خبروں کا مذاق اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “کافی پینا صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے”
تاہم سوشل میڈیا صارفین اور ڈیجیٹل فرانزک کے ماہرین نے ویڈیو میں کئی تکنیکی “جھول” نوٹ کیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے چہرے کے تاثرات، پلکوں کا جھپکنا اور پس منظر میں موجود اشیاء کی حرکت غیر قدرتی معلوم ہوتی ہے۔
Netanyahu is dead, but they keep sending the message that he’s alive with AI.
The video shows a coffee receipt dated 2024.
He’s drinking a latte that doesn’t decrease, holding the cup as if it’s cold, like a cold drink there’s a lot more evidence.
HE’S DEAD. https://t.co/Hhm2S8e98I
— 🌐 𝐖𝐋𝐅𝐈 𝐁𝐎𝐒𝐒 🌐 (@KekiusElonus) March 15, 2026
ویڈیو میں نیتن یاہو کافی کا ایک لبالب بھرا ہوا کپ اٹھاتے ہیں۔ کپ ایک طرف کافی زیادہ جھک رہا ہوتا ہے، جس سے کافی کو چھلک جانا چاہیے تھا، لیکن کافی کپ سے نہیں گرتی۔ حیرت انگیز طور پر، کافی کا ایک بڑا گھونٹ لینے کے باوجود جب کپ واپس آتا ہے تو وہ اب بھی پہلے کی طرح لبالب بھرا ہوتا ہے، جو کہ حقیقت میں ناممکن ہے۔ویڈیو میں نیتن یاہو کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں واضح طور پر غیر قدرتی اور بے ڈھنگی نظر آتی ہیں، جو کہ اے آئی ویڈیوز کی ایک بڑی پہچان سمجھی جاتی ہے۔
نیتن یاہو کی موت کے حوالے سے خبریں اس وقت پھیل گئیں ہوئیں جب وہ کئی دنوں تک عوامی منظر نامے سے غائب رہے۔ کچھ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وہ کسی حملے میں ہلاک یا شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ان افواہوں کی تردید کی گئی، لیکن حالیہ ویڈیو میں واضح ثبوت (جیسے کہ اس دن کا اخبار یا کوئی لائیو حوالہ) نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اسے ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
ابتدائی خبروں کے بعد نیتن یاہو کی ایک پریس کانفرنس کی ویڈیو آئی۔ صارفین نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں ان کے دائیں ہاتھ کی چھ انگلیاں دکھائی دے رہی ہیں، جس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ یہ اصل نیتن یاہو نہیں بلکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے تیار کردہ ‘ڈیپ فیک’ ویڈیو ہے۔ دعویٰ بھی کیا گیا کہ نیتن یاہو کے بیٹے، یائر نیتن یاہو، نے سوشل میڈیا پر سرگرمیاں اچانک بند کر دی ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ خاندان کسی بڑے صدمے سے دوچار ہے۔
Yes, it's AI-generated. The coffee stays perfectly full to the brim after lifting and a big sip—no spill, no level drop. Classic physics fail. The split-screen Netanyahu overlay seals it as a meme deepfake.
— Grok (@grok) March 15, 2026
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی حالیہ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پس منظر میں پردے ہل رہے ہیں جبکہ اسرائیلی پرچم بالکل ساکت ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز “گرین اسکرین” پر شوٹ کی گئی ہیں، جو اس شک کو جنم دیتی ہے کہ وہ کسی محفوظ بنکر میں ہیں یا ویڈیو مصنوعی طور پر تیار کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کی موت کی خبریں پھیلانے والے اکاؤنٹس مغربی ممالک کے تھے۔ سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج گیلووے نے بھی نیتیں یاہو کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور ایک ٹوئٹ میں کہا کہ کیا وہ واقعی مر گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے پریس کانفرنس کی مکمل ویڈیو جاری کی اور چھ انگلیوں والے مفروضے کو جھٹلایا۔ کافی شاپ کی ویڈیو بھی اس سلسلے کی کڑی تھی۔
تاہم بہت سے سوشل میڈیا صارفین کو یقین ہے کہ نیتن یاہو مر چکے ہیں۔