پاکستان کی امریکی کیمپ میں شمولیت سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی تھی،قائد اعظم نے طے کی
واشنگٹن کو دلچسپی نہیں تھی،سوویت کارڈ کھیل کر توجہ حاصل کی گئی۔سینئر صحافی جاوید صدیق کی امت ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو
پاک امریکہ تعلقات
سینئر تجزیہ کار جاوید صدیق نے کہا ہے کہ پاکستان کا امریکی اور مغربی کیمپ میں جانا حالات وواقعات کا ناگزیرتقاضا اور سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی تھی ،اور قائد اعظم نے ہی زمینی حقائق دیکھتے ہوئے یہ ڈاکٹرائن طے کی تھی۔لیاقت علی خان بھی معروضی حالات میں یہی رائے رکھتے تھے البتہ اس وقت امریکہ کو نئی ریاست میں کوئی دلچسپی نہیں تھی،اس کے پیش نظر باقاعدہ ایک سفارتی چال چلی گئی،اور سوویت یونین کارڈ کھیل کر واشنگٹن کے دروازے کھلوائے گئے۔
” امت ڈیجیٹل” کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ ڈینس کاکس نام کے ایک سفارت کار تھے،انہوں نے پاک امریکہ تعلقات پر ایک اہم کتاب لکھی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جب پاکستان بن رہا تھا، اور تقسیم ہو رہی تھی توامریکہ پاکستان کی تخلیق یا تشکیل میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔اس کی توجہ زیادہ تر ہندوستان پر تھی۔ ڈینس نے قائداعظم کے بارے میں لکھا کہ پاکستان بناتو انہوں نے اپنی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایک مسلمان معاشرہ ہیں،سوویت یونین کی طرف نہیں جا سکتے۔ وہ کمیونسٹ حکومت ہے جو ہمارے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔ لہذا ہمیں امریکہ اور برطانیہ جیسے مغربی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں۔اس کا مطلب ہے کہ قائداعظم نے ایک لائن آف ایکشن دی تھی۔ڈینس نے بعد میں یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان میں امریکی سفیر پال ایلنگ 1948میں جب کراچی آئے توقائداعظم نے گورنر جنرل ہائوس مدعوکرکے انہیں ضیافت دی تھی۔انہوں نے لکھا کہ قائداعظم نے سفیرکو بھی بتایا کہ پاکستان سوویت بلاک میں شامل ہونے کے بجائے مغربی کیمپ میں شامل ہونے کو تیار ہے۔ہم ایک مذہبی ریاست ہیں، ایک اسلامی ریاست ہیںتو ہمارا اس طرف جھکا ئوہے۔
جاوید صدیق نے بتایاکہ ڈینس کاکس نے لکھا ہے کہ قائداعظم نے کہا کہ ہمیں فوجی اور مالی امداد کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ ایک نئی ریاست ہے۔میرلائق علی تحریک پاکستان کی ایک اہم شخصیت تھے،وہ پاکستانی سفیر بن کر امریکہ گئے، انہوں نے 2 ارب ڈالرمانگے جسے مسترد کر دیا گیا اور کہا گیا کہ ہم اتنی رقم نہیں دے سکتے۔ بعد میں،بقول ڈینس کاکس، جب پاکستان میں امریکی سفارت خانہ ابھی قائم نہیں ہواتھاتو اس وقت سفیر کو قائد اعظم نے اپنی رہائش پیش کی،کیوں کہ ان کے پاس کوئی عمارت نہیں تھی، قائد نے بتایا کہ ان کے پاس ایک خالی بنگلہ ہے، وہ وہاں آسکتے ہیں،تاہم اس نے ایسا نہیں کیا،وہ وہاں نہیں گیا اور پیشکش کو قبول نہیں کیا، لیکن قائداعظم کے ساتھ ان کے تعلقا ت بن چکے تھے، اوراسی دوران قائداعظم کی درخواست پر امریکہ نے پہلے 200یا 250 ملین ڈالر دیے۔پہلے سوملین ڈالر یا اس سے کم دینے کی پیشکش کی تھی۔
جاوید صدیق نے کہاکہ پال ایلنگ، قائداعظم کی طرح، 48 میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔انہیں کینسر تھا اور قائداعظم کی وفات کے فورا بعدوہ بیمار ہو کرواپس امریکہ چلے گئے اور وہاں کینسر سے مر گئے۔ قائداعظم کی وفات کے بعدہم شدید پریشانی میں مبتلا تھے اورقیادت کو ایک بڑے امتحان کا سامنا تھا۔وزیراعظم لیاقت علی خان، ایک تجربہ کار سیاستدان تھے،ان کی پریشانی بھی یہی تھی کہ نئی ریاست ہے ، مسائل بہت زیادہ ہیں ، معیشت خراب ہے، کیسے ملک چلے گا۔ان حالا ت میں لیاقت علی خان کا موقف تھا کہ ہمیں مغربی امداد اورہتھیاروں کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارا دفاع بہت کمزور تھا، اور تقسیم کے اصولوں کے مطابق ہماری فوج ہمارا حصہ ، اور وہ ہتھیار جو بھارت نے فراہم کرنے تھے، اس میں وہ تاخیر کر رہا تھا۔ان حالات میں لیاقت علی خان بہت پریشان ہوئے، انہوں نے کہاکہ امریکہ کی ہماری طرف توجہ نہیں تو انہوں نے ایک سفارتی چال چلی۔ انہوں نے راجہ غضنفر علی جو تہران میں سفیر تھے ،ان سے کہاکہ سوویت یونین سے سفارتی دعوت بھجوائیں۔غضنفر علی نے تہران میں روسی سفیر سے کہا کہ ہمارے وزیراعظم ماسکو کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ لہذا، دونوں طرف، مغربی بلاک سوویت بلاک بھی نئی ریاستوں کو اپنے دائرہ اثر میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔
جاوید صدیق کے مطابق جب روسی سفیر کو یہ پیغام ملا کہ وزیر اعظم پاکستان سوویت یونین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں تو ماسکو نے فوری طور پر اس تجویز کو قبول کرلی۔ جب یہ خبر پھیلی تو امریکہ پریشان ہوگیا کہ پاکستان جو ایک نئی ریاست ہے، جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے اہم ہے، اسے سوویت یونین کے حلقہ اثر میں نہیں جانا چاہیے۔تب امریکہ نے 1950 میں لیاقت علی خان کو امریکہ آنے کی دعوت دی ۔ یہ امریکہ کی توجہ مبذول کرانے کے لیے ایک دانستہ اور عملی اقدام تھا۔ چنانچہ لیاقت علی خان واشنگٹن گئے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔اور پھر انہیں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔وہاں لیاقت علی خان نے ایک نہایت پراعتماد اور زوردار تقریر کی جس میں انہوں نے وہاں پاکستان کا مقدمہ پیش کیا۔اس طرح ہم سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں اس کے دائرہ اثر میں داخل ہوئے۔
ایک سوال پر جاوید صدیق نے کہا کہ قائداعظم اور لیاقت علی خان کی رائے تھی کہ ہمیں مغربی ممالک کے ساتھ اتحاد کرنا چاہیے۔ چنانچہ 50کی دہائی میں، پاکستان سیٹو اور سینٹوکا رکن بن گیا.۔ان تنظیموں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی خطرہ ہوتا ہے تو امریکہ اور دیگر رکن ممالک ان کی فوجی اور ہر طرح سے مدد کریں گے۔ پاکستان کو اس وقت اپنی سیکیورٹی کی فکر تھی کیونکہ بھارت ہمیں دھمکیاں دے رہا تھا اور لکھا جا رہا تھا کہ پاکستان ایک سال سے اس سے زیادہ نہیں چل سکتا۔ اسے بھارت کے ساتھ دوبارہ ملایا جائے گا۔مولانا ابوالکلام آزاد اور ان جیسے لوگوں نے اس بارے میں لکھا تھا تو یہ ہمارے خدشات میں سے ایک تھا۔ چنانچہ ہم نے اپنا جھکا ئومغربی ممالک، امریکہ کی طرف موڑ دیا،پھر یہ میلان اورقربت بڑھتی گئی۔