دنیامیں عید کی تاریخ ۔پہلی باریہ تہوار کس نے اور کب منایا؟

 حضرت ابراہیم پر جب آتشِ نمرود گل زار بنی، اُس مناسبت سے اُن کی اُمّت عید منایا کرتی تھی

               

جس طرح یہ کہنا مشکل ہے کہ دنیامیں پہلی عید کب منائی گئی ،اسی طرح لفظ عید کب اور کیسے وجود میں آیا،اس بارے میں بھی حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

مورخین کہتے ہیں کہ کرّہ زمین پرجشنِ مسرّت یا خوشی سے بھرپور تہوار منانے کا آغاز اُس روز ہواتھا، جب حضرت آدم کی بارگاہِ الٰہی میں توبہ قبول ہوئی۔ گویا یہ دنیا کی پہلی عید تھی، جو اس خوشی میں منائی گئی۔ دوسری عید یا یومِ مسرّت اُس وقت منایا گیا، جب حضرت نوح اور اُن کی اُمّت کو طوفان سے نجات ملی۔

بعض روایات کے مطابق حضرت ابراہیم خلیل اللہ پر جب آتشِ نمرود گل زار بنی، اُس روز کی مناسبت سے اُن کی اُمّت عید منایا کرتی تھی۔جس روز حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی، وہ اُن کی امّت کا یومِ عید بنا۔ بنی اسرائیل اُس روز عید منایا کرتے تھے، جب اُنہیں فرعون اور اُس کے مظالم سے نجات ملی، عیسائی حضرت عیسیٰ کی ولادت کے روز عید مناتے ہیں۔

آیت اللہ ناصرمکارم شیرازی کی ویب سائٹ معارف اسلامی پر تحریر ہے کہ چونکہ نزول مائدہ کا دن کامیابی، پاکیزگی اور خدا پر ایمان لانے کی طرف بازگشت کا دن تھا لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس کا نام عید رکھا۔

قرآن میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ایک دعا کے حوالے سے عید کا ذکر موجود ہے۔ ساتواں پارہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر 114 ہے کہ عیسٰی ابن مریم (علیہ السلام) نے عرض کی اے اللہ اے رب ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لئے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

سورہ مائدہ کی اس آیت کے اصل متن میں لفظ عید ہی استعمال ہواہے۔

لسانی ماہرین کے مطابق عید عربی کا لفظ ہے اور عود اس کا مادہ ہے جس کے معنی بازگشت یا لوٹنے کے ہیں۔ عربی زبان میں عبرانی اور سریانی کے کئی لفظ شامل ہیں،لہذا ممکن ہے کہ اس لفظ کی اصل ان زبانوں سے ہو۔

 

عیسائیت اورتوریت واناجیل کے سکالر زکا کہناہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مادری زبان آرامی تھی،عبرانی ،عربی اور آرامی سب سامی زبانیں ہیں ، ان کے کئی الفاظ جیسے حج اور ایمان مشترک ہیں۔انجیل مقدس تو اصلاً یونانی زبان میں ہے، تو یہ امکان بہت کم ہے کہ عید کا لفظ وہاں سے آیاہو، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بول چال میں آرامی زبان استعمال کرتے تھے۔اس لیے اگر یہ لفظ ان سے ملا ہے تو آرامی یاپھردوسری صورت میں عبرانی زبان سے آیاہوگا۔تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی یہ لفظ استعمال کرچکے ہوں۔

عبرانی لغت میں موعد کا لفظ ملتا ہے جس کا لغوی مطلب اکٹھا ہونا ہے۔توریت میں یہ لفظ عید کے لیے استعمال ہواہے۔اسی طرح آرامی میں ایک لفظ ہے یعد(ی ع د)۔اس کا مطلب ہے مقرر یا متعین کرنا۔آرامی میں یہ لفظ عقد کے لیے بھی ہے۔اس کا عربی متبادل وعد ہے۔جس کا مطلب وعدہ اور اس کے علاوہ وقت یا جگہ کا تعین یا طے ہونابھی لیا جاتاہے۔
وکی پیڈیاکے مطابق سریانی زبان سامی زبانوں کے خاندان سے ہے اور آرامی زبان سے نکلی ہے۔

لغات سے پتاچلتاہے کہ عید کا عربی میں مادہ عود ہے۔اس کا مطلب واپسی،باربار لوٹنا،پلٹنا یابحالی ہے۔ عادت بھی اسی قبیلے کا لفظ ہے۔عیادت کا لفظ بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتاہے جس کا مطلب مزاج پرسی ہے اور اس کے علاوہ مطب کا مفہوم بھی لیا جاتاہے۔ایسے ہی میعاد یا معیادی بخار کے الفاظ بھی اسی کنبے سے ہیں۔

عیدین کے حوالے سے جس حدیث کا حوالہ دیا جاتاہے اس میں جو الفاظ نقل کیے گئے ہیں ان کے مطابق نبی کریم نے مسلمانوں کے دوتہواروں کو یوم الاضحیٰ اور یوم الفطر قرارفرمایاتھا۔

حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اکرمؐ جب مکّے سے ہجرت فرما کر مدینہ منوّرہ تشریف لائے، تو اہلِ مدینہ (جن کی ایک بڑی تعداد اسلام لا چُکی تھی) جشن و مسرّت کے دو تہوار منایا کرتے تھے۔ رسول اکرم نے اُن سے دریافت فرمایا کہیہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی کیا حقیقت ہے؟اُنہوں نے عرض کیاہم جاہلیت میں (قبل از اسلام) یہ دو تہوار مناتے تھے، (لہٰذا وہی رواج ہم میں ابھی تک باقی چلا آرہا ہے)۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایااللہ نے ان دو تہواروں کے بدلے ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرّر فرما دیے ہیں، (لہٰذا اب وہی تمہارے قومی اور مذہبی تہوار ہیں)، یوم عیدالاضحیٰ اور یومِ عید الفطر (سنن ابو دائود)۔
اس حدیث کے اصل عربی متن میں یوم الاضحیٰ اور یوم الفطر کے الفاظ ہیں۔

اولین اسلامی عید یعنی عید الفطر 2 ھ کی یکم شوال کو مدینہ میں منائی گئی تھی۔جامعة العلوم اسلامیہ بنوری ٹائون کراچی نے ایک فتوے میں قراردیاہے کہ سب سے پہلے عید کی نماز ہجرت کے دوسرے سال ادا کی گئی۔اس فتوے میں ابن حبان کی روایت کا حوالہ ملتاہے۔

بنوری ٹائون کے ایک اورفتوے میں کہا گیاہے کہ مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کے بقول دوہجری میں رسول اللہ نے صحابہ کرام کو پہلی مرتبہ عید کی نماز پڑھائی۔اسلام کی پہلی عیدالفطرکی نماز شہر مدینہ کے مشرقی دروازے کے باہر کھلے میدان میں ہوئی تھی۔

18 اگست 1947ء کو پاکستان کی پہلی عیدالفطر منائی گئی تھی۔