ایران جنگ:پاکستان کی سفارت کاری خطے میں بحث اور توجہ کا مرکز کیوں بنی؟
اسلام آباد کشیدہ صورتحال میں بے پناہ پیچیدگیوں کے باوجود مثبت اورتعمیری کردار ادا کر رہا ہے
ایران جنگ میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر زیربحث لایا جارہاہے۔عالمی ماہرین کے مطابق پاکستان نے بیک وقت عرب ممالک اور ایران کے ساتھ متوازن بات چیت قائم کر کے بہترین سفارت کاری کا عملی مظاہرہ کیا۔ماہرین ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کواہمیت دے رہے ہیں جوانہوں نے اردومیں دیااور حکومت پاکستان کے ساتھ پاکستانی عوام کا بھی شکریہ اداکیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عراقچی کا ردعمل پاکستان کی بہترین سفارت کاری اور خطے میں نمایاں حیثیت کا عکاس ہے۔بین الاقوامی امور کے مبصرین کا کہناہے کہ اسلام آباد مشرق وسطی ٰکی کشیدہ صورتحال میں بے پناہ پیچیدگیوں کے باوجود ایک انتہائی مثبت اور اہم تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کی خطے میں برادر ممالک کے درمیان امن کے لیے کی جانے والی کاوشیں قابل ستائش ہیں جو جنگ کو محدود کرنے میں انتہائی اہم ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر مشرق وسطی کی کشیدگی کے دوران اسلام آباد کے سفارتی اقدامات کا تذکرہ ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے جرمن نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ پاکستانی حکومت کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے،پاکستان نہ تو ایران کی طرف سے خلیجی ممالک پر کیے جانے والے حملوں کی حمایت کرتا ہے اور نہ ایران پر بمباری کی۔ مشرف زیدی کے مطابق سعودی عرب کو جب بھی ضرورت پڑے گی، پاکستان موجود ہو گا۔ ساتھ ہی وزیر اعظم ایرانی قیادت سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔
مشرق وسطی کے امور کی ماہر فاطمہ امان مطابق پاکستان کم ازکم سیاسی طور پر غیر جانبدار نہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دراصل اسلام آباد نے اسرائیلی حملوں پر تنقید اور ایرانی خودمختاری کی حمایت کی تاہم عملی طور پر پاکستان اس جنگ میں فریق نہیں بننا چاہتا۔ٹرمپ حکومت پاکستان کے رویے پر حیران نہیں ہو گی، واشنگٹن کو توقع نہیں کہ پاکستان جنگ میں براہ راست شامل ہو گا۔ زیادہ حقیقت پسندانہ توقع یہ ہے کہ پاکستان اپنے علاقے میں کسی بھی ایران حامی یا امریکہ مخالف سرگرمی کو روکے، ایران کو مدد نہ دے، انٹیلی جنس تعاون برقرار رکھے اور خلیجی جہاز رانی کو محفوظ رکھے۔امان کا کہناہے کہ اگر جنگ پھیلی اور سعودی عرب پر براہ راست حملے ہوئے تو امریکہ کی توقعات بدل جائیں گی اور پاکستان پر ریاض کی حمایت کے لیے دبا بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے، جس سے اسلام آباد کے لیے نیوٹرل پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گی۔
امریکہ کے لیے سابق پاکستانی سفیر اور بین الاقوامی امور کی ماہر ملیحہ لودھی کے مطابق پاکستان کی پوزیشن ایرانی موقف کے زیادہ قریب نظر آتی ہے،پاکستان نے امریکہ کا نام لیے بغیر ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی۔ پاکستانی قیادت نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ وزیر اعظم نے نئے سپریم لیڈر کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد کا پیغام ارسال کیا اوردونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے جنگ کے دوران بھی رابطہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رائے عامہ بھی بڑی حد تک ایران کے حق میں ہے۔ گلف کوآپریشن کونسل کے رکن ممالک، بالخصوص سعودی عرب سے قریبی دفاعی تعلقات کے باعث اسلام آباد ایرانی حملوں کی مذمت بھی کرتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہناہے کہ پاکستانی قیادت نے جو حالیہ ملاقاتیں کی ہیں اور جس طرح اس معاملے میں کردار ادا کیا ہے لگتا ہے کہ اس سے ایران خوش ہے اور ایران سے متعلق خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کی قیادت کو پیغام ٹھیک ٹھیک انداز میں بھیجا ہے۔قندیل عباس کے مطابق پاکستان نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تین سے چار دہائیوں پرانے اور انتہائی پیچیدہ تنازع میں محتاط پالیسی اختیار کی۔ ان کی رائے میں یہ توازن برقرار رکھنا بہت مشکل ہے مگر پاکستان نے ایسا کیا۔
برطانوی میڈیاکے مطابق،ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے لڑائی تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران پاکستان نے سفارتی محاذ پر سرگرم کردار ادا کیا ہے۔شہباز شریف نے 1 مارچ کو سعودی عرب کا مختصر دورہ بھی کیا جہاں ان کی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوئی۔اس ماہ کے آغاز میں سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی سہولت دینے کی پیشکش کی ہے تاکہ لڑائی کا سلسلہ ختم ہو سکے۔وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار مسلسل مختلف ممالک کے رہنمائوں سے رابطے میں ہیں اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک رپورٹ میں لکھاہے کہ مشرقِ وسطی میں حالیہ جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں قطر کے سابق وزیرِ اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی کی ایک تجویز کے بعد ایک بار پھر عرب،اسلامی سیاسی و فوجی اتحاد کے قیام کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے خلیجی تعاون کونسل ملکوں کو فوری طور پر اپنے اختلافات ختم کر کے نیٹو طرز کے ایک موثر فوجی و سکیورٹی اتحاد قائم کرنے کی تجویز دی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب مرکزی کردار ادا کرے اور پاکستان و ترکی کے ساتھ قریبی تعاون موجود ہو۔انھوں نے کہا کہ کونسل کی ریاستوں پر حملوں کے باوجود کئی عرب ریاستوں کی خاموشی باعثِ حیرت ہے اور یہی صورتحال خلیجی ممالک کو فوری طور پر ایک فوجی، سلامتی اور جغرافیائی اتحاد قائم کرنے پر مجبور کرتی ہے، جو ترکی اور پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھے، لیکن اپنے بیٹوں کے بازوئوں پر بھی انحصار کرے۔
قطر کے ایک سینئر سفارتکار حمد بن عبدالعزیز القواری نے حمد بن قاسم سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی موجودہ آزمائش محض عارضی بحران نہیں تھی، بلکہ ہمارے لیے ایک وجودی امتحان تھا جس نے ہماری شناخت، سمت اور مستقبل کو پرکھا۔ انھوں نے زور دیا کہ خلیجی ممالک کو اپنی سکیورٹی اور سٹریٹیجک اتحاد کا جائزہ لینا چاہیے اور پاکستان و ترکی جیسے مسلم بھائیوں کے ساتھ شراکت کو مضبوط کرنا چاہیے۔
یاد رہے اس سے قبل مسلم اتحاد قائم کرنے کا خیال ستمبر 2024میں ترکی کے صدر رجب طیب ادروغان نے پیش کیا تھا، جب انھوں نے اسرائیل کے مبینہ توسیع پسندانہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم ممالک کو اتحاد بنانے کی تجویز دی تھی اور ستمبر 2025میں پاکستان کے وزیرِ دفاع نے بھی اسلامی نیٹو کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔