‘ہرمزندی ‘جس نے جگمگاتا غزہ بنانے،گرین لینڈ ہتھیانے اور صومالی لینڈ بسانے کے خواب ڈبودیئے
اسرائیل اور امریکہ کی ایران سے جنگ نے گذشتہ سال کی مشترکہ مہم کی 12روزہ سطح کو پارکرلیا ہے
اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی)کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کورونے گذشتہ دنوں غزہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جو دیکھااسے بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں تباہی کے مناظر لرزہ خیز تھے، جو تصور سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ 19لاکھ افراد کی بے دخلی کے ساتھ انسانی جانوں کا ضیاع اور خاندانوں کا سوگوار ہونا انتہائی دل خراش ہے لیکن اس کے باوجود فلسطینی عوام کی ہمت اور استقامت اتنی ہی واضح ہے۔ ڈی کورونے کہا کہ جنرل اسمبلی مینڈیٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام(یواین ڈی پی) مکمل طور پر سرگرم ہے۔ جنگ کے اثرات کی وجہ سے غزہ کا 70سالہ ترقیاتی سفر مجروح ہواہے۔ اب ہم فلسطینیوں کی اپنی قیادت میں ابتدائی بحالی کے کام کا آغاز کر رہے ہیں، جس میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کاروباروں کی مدد شامل ہے جو بحالی کے لیے تیار ہیں۔ غزہ ایک نازک مرحلے میں ہے، اور اس زمینی کام کا آغاز وسیع تر استحکام کی راہ ہموار کرے گا۔فلسطینی دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کی ایران سے جنگ نے گذشتہ سال کی مشترکہ مہم کی 12روزہ سطح کو پارکرلیا ہے ۔ اس دوران ،غزہ کی جگہ تل ابیب، حیفہ اور یروشلم نے لے لی۔دوسری طرف ،غزہ میں بحالی اور ترقیاتی سفرکی دوبارہ ابتداکی بات ہورہی ہے۔
شہری بحالی کے حوالے سے صورت حال یہ ہے کہ بقول الیگزینڈر ڈی کورو،بنیادی خدمات، جیسے کہ ملبہ ہٹانا اور ٹھوس فضلے کو ٹھکانے لگانا، عوامی صحت اور بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یواین ڈی پینے غزہ شہر میں فراس مارکیٹ میں لگے کچرے کے بڑے ڈھیر کو ہٹانا شروع کر دیا ہے، تاکہ اس مارکیٹ کو دوبارہ ایک متحرک معاشی مرکز کے طور پر کھولا جا سکے۔ روزانہ ملبہ جمع کرنے اور اسے کچلنے کے مقامات بھی اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع کی ہماری حالیہ میپنگ معاشی پھیلائو کو فروغ دینے کی بنیاد رکھتی ہے، اور یہ کاروبار تیار ہیں۔
ترقیاتی ادارے کے سربراہ کا کہناہے کہ دو سالہ جنگ کے دوران، ہمارے عملے کی ثابت قدمی اور ہمت کی بدولت یواین ڈی پی وہاں موجود رہا اور خدمات فراہم کیں۔ اب، ہم اپنے کام کا دائرہ بڑھا رہے ہیں اور فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ایران کی جنگ نے ایک طرف تل ابیب سمیت دیگر اسرائیلی شہروں کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا اور غزہ کو بحالی کا سفر عطا کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ غزہ امن منصوبہ اور اس کے تحت مجوزہ اقدامات کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ امریکی صدرٹرمپ نے غزہ کے جگمگاتے شہر کا جو خواب دیکھاتھا وہ فی الحال دور دور تک دوبارہ دکھائی نہیں دیا۔
صومالی لینڈ ایک اور بھولی بسری کہانی بن گئی جسے تسلیم کرکے اسرائیل نے غزہ کے فلسطینیوں کو وہاں بسانے کا سپنادیکھاتھا۔آج بین الاقوامی معاملات میں صومالی لینڈ اور اس کا معاملہ خبروں میں کہیں موجود نہیں۔
گرین لینڈ بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے جس نے امریکی عزائم کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی خودمختاری کے تحفظ کا عزم ظاہرکیا تھااور اس کی سرزمین کوہتھیانے کا پروگرام بھی حالات حاضرہ کی فہرست سے غائب ہوچکاہے۔
ان سب کی جگہ ایک تنگ آبی راستے ” آبنائے ہرمز” نے لے لی ۔عالمی تجارت کی اس ” ندی ” کے بھنورنے امریکہ کے گلے کی ہڈی بن کر پورے منظرنامے پر تسلط قائم کرلیا۔ بین الاقوامی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل آرسینیو دومینگیز نے کہا ہے کہ جہازوں کے ساتھ جنگی بحری جہازوں کی حفاظتی رفاقت بھی 100 فیصد محفوظ گزر کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ادھر،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی اتحادیوں پر تنقید کی ہے، جنہوں نے تیل بردارٹینکرز کی حفاظت کے لیے بحری اسکواڈ بھیجنے کی درخواست مسترد کر دی۔برطانوی نشریاتی ادارے کے سیکیورٹی نامہ نگار کے مطابق ،برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک اپنی اپنی بحریہ کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔
اس کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ انہیں کسی کی ضرورت نہیں۔
تہران نے اس آبنائے سے ان جہازوں کے گذرنے پر پابندی لگارکھی ہے جو اس کے بقول امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں سے منسلک ہوں۔
غیرملکی تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ تہران میں حکومت برقراراور نیا رہبرمنتخب کیا جاچکاہے ، یورینیئم بھی اس حد تک افزودہ کر لیاگیاہے جو سول جوہری ضرورت سے زیادہ ہے۔ ان سب کو ملا کر دیکھیں تو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے لیے یہ ایسا خطرہ ہے جو ناقابل قبول ہے۔