آسٹریلیا میں پناہ حاصل کرنے کی کوششیں کرنے والی 5 ایرانی خواتین فٹ بالرزکی وطن واپسی

2ٹھہرگئیں۔کھلاڑیوں کو ھمکیوں کے ذریعے اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور کیا گیا ہے۔انسان حقوق کارکنوں کا اندازہ

               
March 19, 2026 · اسپورٹس

ایرانی خواتین فٹ بالرز

 

ایران کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی وہ پانچ ارکان، جنہوں نے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوششیں ترک کر دی تھیں، باقی اسکواڈ کے ساتھ ملک واپس پہنچ گئی ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی تصاویر سامنے آئیںجن میں وہ ٹریک سوٹ پہنے ملائیشیا اور عمان کے راستے پرواز کے بعد ترکی سے ایران کی حدود میں داخل ہو رہی تھیں۔ان میں سے کئی کھلاڑیوں نے ابتدائی طور پر آسٹریلیا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ فیصلہ ان خدشات کے بعد کیا گیا تھا کہ ایشین کپ کے افتتاحی میچ میں ایران کے قومی ترانے کے دوران خاموش رہنے کی وجہ سے انہیں وطن واپسی پر انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں کو شاید ان کے خاندانوں کے خلاف دھمکیوں کے ذریعے اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

 

ایرانی تارکین وطن کے کارکنوں نے جن تین کھلاڑیوں کے نام ظاہر کیے ہیں جنہوں نے اپنی درخواستیں واپس لیں، ان میں زہرا سلطان مشککار، مونا حمودی اور زہرا سربالی شامل ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ کپتان زہرا قنبری بھی ان میں شامل تھیں جنہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا، پانچویں کھلاڑی کا نام ابھی سامنے نہیں آیا ۔ صرف دو کھلاڑی، جنہیں پناہ دی گئی تھی، منحرف ہو کر آسٹریلیا ہی میں رک گئی ہیں۔

 

ٹیم کی حفاظت کے بارے میں خدشات اس وقت بڑھے جب سرکاری ٹی وی پر ایک ہوسٹ کی ویڈیو سامنے آئی جس میں انہیں غدارقرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ 2 مارچ کو (امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد) ترانے کے دوران خاموش رہنے پر انہیں سزا ملنی چاہیے۔

 

ٹورنامنٹ سے باہر ہونے سے پہلے اگلے دو میچوں میں کھلاڑیوں نے قومی ترانہ پڑھا، جس سے ناقدین کو یہ یقین ہوا کہ ٹیم کے ساتھ موجود سرکاری حکام نے انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے بعد میں تصدیق کی کہ پانچ کھلاڑی جو آسٹریلیا میں رہنا چاہتی تھیں، انہیں پولیس نے گولڈ کوسٹ کے اس ہوٹل سے ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا تھا جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھیں۔ برک نے بتایا کہ انہوں نے محفوظ مقام پر ان خواتین سے ملاقات کی اور رات کے ڈیڑھ بجے ان کی انسانی ہمدردی کے ویزے کی درخواستوں پر دستخط کیے، جس سے انہیں آسٹریلیا میں رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت مل جاتی۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس دوران، نگران (مائنڈرز) ہوٹل میں انہیں ڈھونڈنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے تھے، لیکن وہ وہاں سے جا چکی تھیں۔ بعدمیں دو اور خواتین بھی اس گروپ میں شامل ہو گئیں۔لیکن جب کچھ کھلاڑیوں نے اپنا ارادہ بدلنا شروع کیا، تو ٹونی برک نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت اس تناظرکو ختم نہیں کر سکتی جس میں یہ کھلاڑی اتنے مشکل فیصلے کر رہی ہیں۔

 

ایرانی وزارتِ کھیل نے اس وقت کہا تھا کہ انہوں نے اپنے قومی جذبے اور حب الوطنی کے ذریعے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے، اور آسٹریلوی حکومت پر ٹرمپ کے ایجنڈےپر عمل کرنے کا الزام لگایا۔ دوسری جانب نیوز ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ ان کھلاڑیوں کو آسٹریلیا میں نفسیاتی جنگ، وسیع پراپیگنڈے اور پرکشش پیشکشوںکا سامنا کرنا پڑا تھا۔