ایران کے ساتھ مذاکرات جاری، صدر ٹرمپ طاقت کے استعمال سے نہیں ڈرتے: وائٹ ہاؤس

امریکا اور اتحادیوں کے لیے ایران سے لاحق خطرات میں واضح کمی آ چکی ہے اور ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم ہو چکا ہے

               
March 26, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی کارروائی سے قبل سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ طاقت کے استعمال سے نہیں ڈرتے اور ایران کی قیادت کو چاہیے کہ وہ شکست تسلیم کرے اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہشات ختم کرے۔

کیرولائن لیوٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کے خلاف فوجی اہداف تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں اور گزشتہ تین ہفتوں میں ایران کے تقریباً 9,000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔ ایران کے 140 نیوی جہاز اور 50 سمندری بارودی کشتیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ زیر زمین جنگی ساز و سامان پر 5,000 پاؤنڈ وزنی بم گرائے گئے۔ ان کارروائیوں کو ورلڈ وار ٹو کے بعد نیوی کے خلاف سب سے بڑی جنگی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق امریکا اور اتحادیوں کے لیے ایران سے لاحق خطرات میں واضح کمی آ چکی ہے اور ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم ہو چکا ہے۔ آبنائے ہرمز میں موجود خطرات کو ختم کرنے کے لیے امریکی فوج مکمل طور پر سرگرم ہے۔

کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ ایران اب مذاکرات کے لیے تیار ہے اور صدر ٹرمپ اس کی بات سننے کے لیے تیار ہیں۔ اسی وجہ سے امریکی انتظامیہ نے ایران کے پاور پلانٹ اور توانائی سیکٹر پر حملوں کو عارضی طور پر معطل رکھا ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی خواہشات ختم کرنی ہوں گی اور امریکا و اتحادیوں کو دھمکیاں دینا بند کرنی ہوں گی۔

انہوں نے زور دیا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ امن کو ترجیح دیتے ہیں اور مزید اموات و تباہی نہیں چاہتے، تاہم ایران کی حالیہ غلطیوں نے اسے اپنی سینئر قیادت، نیوی، ایئر فورس اور دفاعی نظام سے محروم کر دیا ہے، جس کے پیش نظر ممکنہ سخت کارروائیوں کے اثرات سے ایران کو کسی بھی طرح کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔