ٹاور آف لندن میں کوے کیوں قید ہیں،جھنڈ نظر آئیں تو براشگون کیوں ہوتا ہے؟
بہت سے لوگ اسے تباہی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کے بعد اکثر مکمل تباہی آتی ہے
ٹاور آف لندن کے کوے
منگل کے روز تل ابیب کا آسمان کووں کے ایک بڑے غول سے بھر گیا، جسے بہت سے لوگوں نے تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا۔اس واقعہ کی ڈرامائی فوٹیج میں، جو انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہوئی، ہزاروں کووں کو ازریلی ٹاورز (Azrieli Towers)جیسی بلند و بالا عمارتوں کے گرد چکر لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ بہت سے دیکھنے والوں نے اس خوفناک منظر کو ایران کے ساتھ اسرائیل کی جاری کشیدگی سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کسی بڑی آفت کا اشارہ ہے۔
ایکس (ٹویٹر) پر ایک صارف نے لکھاکہ بہت سے لوگ اسے تباہی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ماناجاتاہے کہ اس کے بعد مکمل تباہی آتی ہے، دیگر نے اسے بائبل کی ایک پیش گوئی سے جوڑتے ہوئے کتابِ مکاشفہ کا حوالہ دیا، جس میں ایک فرشتے کا ذکر ہے جو سورج میں کھڑا ہو کر ہوا میں اڑنے والے پرندوں کوبڑی ضیافت کے لیے پکارتا ہے۔
تل ابیب کیؒ کووں کے اس غول نے شہر کے آسمان پر گہرے بادلوں جیسا منظر پیش کیا، جسے دیکھ کر مقامی رہائشی دنگ رہ گئے۔ تاہم، پرندوں کےسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مافوق الفطرت واقعہ نہیں بلکہ دنیا کے مصروف ترین فضائی راستوں میں سے ایک پر معمول کی موسمی ہجرت کا حصہ ہے۔
ماہرین کے مطابق، ہر سال موسم بہار کی ہجرت کے دوران تقریباً 50 کروڑ پرندے اسرائیل سے گزرتے ہیں، او ر ہڈڈ کروز (Hooded Crows) اکثر افزائشِ نسل کے موسم میں شہری علاقوں میں جمع ہوتے ہیں۔ اسرائیل میں کوے، خاص طور پر ہڈڈ کروز، بہت عام ہیں۔ مارچ کے آس پاس تل ابیب جیسے شہروں سے ہزاروں کووں کی نقل مکانی اکثر موسمی تبدیلیوں، ماحولیاتی عوامل یا کسی خلل کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اگرچہ سائنسدان اسے ایک قدرتی عمل قرار دے رہے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین بضد ہیں کہ اس بڑے غول کے پیچھے کوئی نحوست ہے۔ ایک صارف نے لکھاکہ یہ بدترین ممکنہ شگون ہے۔ انگلستان میں آج بھی اسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اور قدیم رومی اس طرح کی نشانیوں پر پوری جنگیں روک دیا کرتے تھے۔
قدیم روم میں آگرز (Augurs) کہلانے والے پادری آسمان کا گہرا مشاہدہ کرتے تھے اور پرندوں کی اڑان اور آوازوں کو دیوتاؤں کا پیغام سمجھتے تھے، جو جنگ، قیادت اور اہم عوامی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے تھے۔ پرندوں کا غیر معمولی اجتماع اکثر آنے والی مصیبت کی علامت سمجھا جاتا ۔
کچھ لوگوں نےٹاور آف لندن میں رکھے گئے مشہور کووں (Ravens) کا حوالہ دیا، جن کے بارے میں صدیوں پرانی روایت ہے کہ اگر یہ پرندے قلعہ چھوڑ گئے تو برطانوی سلطنت گر جائے گی۔ اس روایت کو برقرار رکھنے کے لیے کم از کم چھ کوے مستقل طور پر وہاں رکھے جاتے ہیں جن کی دیکھ بھال ایک مخصوص ریون ماسٹرکرتا ہے۔
کووں کا یہ منظر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ایک ہزار سے زائد فوجیوں کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کی منظوری دی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایران نے ان سفارتی پیش رفت کے دعووں کی تردید کی ہے، اگرچہ ایک سینئر اہلکار نے ثالث کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کی تصدیق کی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اب تک2ہزارسے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی ہلالِ احمر کے مطابق ایران کے اندر اسرائیلی اور امریکی حملوں میں1200سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان میں کم از کم1ہزارہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، اسرائیل میں 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس تنازع میں 13 امریکی فوجی بھی اپنی جان گنوا چکے ہیں، دو مزید فوجی غیر جنگی وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوئے۔