امریکہ اور ایران کی بالواسطہ بات چیت پاکستان کے ذریعے ہو رہی ہے، اسحاق ڈار
مذاکرات اور سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے ، ایکس پر پیغام
فوٹو سوشل میڈیا
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا عمل پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔
جمعرات کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’امن مذاکرات کے حوالے سے میڈیا میں غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور درحقیقت امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت پاکستان کے پیغامات کے ذریعے ہو رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’اس تناظر میں امریکہ نے 15 نکات دیے ہیں، جن پر ایران نے غور کیا ہے ، ترکیہ اور مصر جیسے برادر ممالک بھی اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔ ‘
اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات اور سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور پاکستان امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور خطے اور اس سے باہر استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار کے اس پیغام میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف کو بھی ٹیگ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی خبریں اتوار کو اس وقت گردش کرنا شروع ہوئیں تھیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے پاور پلانٹس پر حملوں کے فیصلوں مؤخر کیا جاتا ہے۔