کشمیر کا انوکھا گاؤں جہاں زندگی دودھ کے گرد گھومتی ہے

گرمیوں کے موسم میں یہاں دودھ سے دہی، مکھن اور پنیر تیار کیا جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں دہی کو خشک کر کے "چور پنیر" کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے،

               
March 28, 2026 · چشم حیرت

بارہ مولہ: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں دودرن اپنی منفرد پہچان کے باعث خاص شہرت رکھتا ہے۔ اس گاؤں کو لوگ محبت سے “دودھ کا گاؤں” بھی کہتے ہیں۔

تقریباً دو ہزار آبادی پر مشتمل اس گاؤں کے زیادہ تر افراد کا انحصار مکمل طور پر دودھ اور مویشی پالنے پر ہے۔ یہاں کے رہائشیوں کی روزمرہ زندگی، آمدن اور خوراک سب کچھ دودھ کے گرد ہی گھومتی ہے۔

دودرن کی سب سے دلچسپ بات یہاں کا صدیوں پرانا روایتی طریقہ ہے جس کے ذریعے دودھ کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ جدید فریج کی بجائے مقامی لوگ لکڑی اور پتھروں سے بنے قدرتی کولنگ سسٹم استعمال کرتے ہیں، جو پہاڑی چشموں کے قریب تعمیر کیے جاتے ہیں تاکہ دودھ کو ٹھنڈا اور تازہ رکھا جا سکے۔

گرمیوں کے موسم میں یہاں دودھ سے دہی، مکھن اور پنیر تیار کیا جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں دہی کو خشک کر کے “چور پنیر” کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو سال بھر استعمال میں آتا ہے۔

یہ گاؤں نہ صرف اپنی روایات بلکہ سادہ اور فطرت سے جڑی زندگی کی وجہ سے بھی منفرد مقام رکھتا ہے، جہاں ہر رنگ دودھ سے وابستہ دکھائی دیتا ہے۔