ایران آبنائے ہرمزمیں بحری جہازوں سے ٹول ٹیکس کیسے وصول کرتاہے؟
باقاعدہ جانچ پڑتال ،اور کلیئرنس کے بعد صرف منظورشدہ راستہ استعمال کرنے کی اجازت
آبنائے ہرمز۔ فائل فوٹو
ایرانی حکومت نے آبنائے ہرمزمیں ٹیکس وصولی کے لیے باقاعدہ ” ٹول بوتھ” سسٹم نافذ کردیاہے۔بحری امور کے جریدے لائیڈز لسٹ’ (Lloyds List) نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میںآبنائے ہرمز سے گزرنے والے 26 بحری جہازوں نے اس راستے کا استعمال کیا ہے جو پاسدارانِ انقلاب کے ”ٹول بوتھ”نظام کے تحت پہلے سے منظور شدہ ہے، جس کے تحت جہاز کے آپریٹرز کو ایک جانچ پڑتال کے نظام سے گزرنا پڑتا ہے۔
اس نظام سے واقف ذرائع نے بتایا ہے کہ آبنائے سے گزرنے کے لیے جہاز کے آپریٹرز کو پہلے پاسدارانِ انقلاب سے رابطہ کرنا ہوتا ہے اور جہاز کی تمام تفصیلات جمع کرانی ہوتی ہیں۔ ان میں دستاویزات، انٹرنیشنل میری ٹائم نمبر، سامان، عملے کے تمام ارکان کے نام اور جہاز کی آخری منزل شامل ہے۔پھر یہ معلوما ت نیول کمانڈ کے پاس جاتی ہیں، جو ان کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ اگر جہاز اس اسکریننگ میں کامیاب ہو جائے تو پاسدارانِ انقلاب ایک کلیئرنس کوڈ اور ان ہدایات پر مبنی راستہ جاری کرتے ہیں جس پر چل کر جہاز کو آبنائے سے گزرنا ہوتا ہے۔
جب جہاز آبنائے میں پہنچتا ہے تو پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز وی ایچ ایف ریڈیو پر کلیئرنس کوڈ مانگتے ہیں۔ جہاز جواب دیتا ہے، اور اگر منظوری مل جائے تو ایرانی کشتی آتی علاقائی پانیوں سے جہاز کی رہنمائی کرتی ہے۔اگر جہاز پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے اسکریننگ ٹیسٹ میں ناکام ہو جائیں تو انہیں اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
گذشتہ دنوں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ‘سیلن’ (Selen)نامی ایک کنٹینر جہاز کوقانونی پروٹوکول کی عدم تعمیل اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے واپس موڑ دیاتھا۔
ایرانی بحریہ کے مطابق ،اس آبی گزرگاہ سے کوئی بھی جہاز جانے کے لیے ایران کی میری ٹائم اتھارٹی کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ضروری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ سب کے لیے کھلی ہے۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے 176 ارکان کو بھیجے گئے ایک خط میں کہاگیاہے کہ غیر دشمن بحری جہاز، بشمول وہ جو دوسری ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں یا ان سے وابستہ ہیں، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں میں حصہ نہ لیں، نہ ان کی حمایت کریں، اور اعلان کردہ حفاظتی و سیکورٹی ضوابط کی مکمل تعمیل کریں اورمتعلقہ ایرانی حکام کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں۔
ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس وصول کو قانونی شکل دینے کی تیاری بھی شروع کردی ۔تسنیم اور فارس نیوز ایجنسیوں کی رپورٹس میں پارلیمنٹ کی سول افیئرز کمیٹی کے چیئرمین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس مقصدکے لیے مسودہ قانون تیار کر لیا گیا ہے اور جلد ہی اسلامی مشاورتی اسمبلی کی قانونی ٹیم اسے حتمی شکل دے دے گی۔ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے مطابق، ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے فیس وصول کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ جس طرح دیگر راہداریوں میں جب سامان کسی ملک سے گزرتا ہے تو ڈیوٹی ادا کی جاتی ہے، آبنائے ہرمز بھی ایک راہداری ہے۔ ہم اس کی سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں، اور یہ فطری بات ہے کہ جہاز اور ٹینکرز ہمیں ڈیوٹی ادا کریں۔