اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا قانون منظور کر لیا
ہہ قانون ماضی کے کیسز پر لاگو نہیں ہوگا ، صرف مستقبل میں ہونے والے واقعات پر اس کا اطلاق کیا جائے گا۔
فائل فوٹو
تل ابیب : اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے ایک متنازعہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسرائیلیوں کے قتل میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی۔
قانون میں مقبوضہ مغربی کنارے کے ان فلسطینیوں کے لیے سزائے موت (بذریعہ پھانسی) کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو اسرائیلی شہریوں کے قتل کے مرتکب پائے جائیں گے۔
یہ قانون اسرائیلی عدالتوں کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے (یہودی) شہریوں کے لیے جرم کی نوعیت کے حساب سے سزائے موت یا عمر قید میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکیں۔
ہہ قانون ماضی کے کیسز پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ صرف مستقبل میں ہونے والے واقعات پر اس کا اطلاق کیا جائے گا۔
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس قانون کی اہمیت کے پیشِ نظر خود ایوان میں آکر اس کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم، اس اقدام کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اور فلسطینی حقوق کے گروپوں نے اس قانون کو نسل پرستانہ اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔
اس قانون کی منظوری کو اسرائیل کی سخت گیر دائیں بازو کی جماعتوں کی بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم کا قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع
اسرائیل کی ایک سرکردہ انسانی حقوق کی تنظیم نے ملک کی پارلیمان (کنیست) سے منظور ہونے والے اس نئے متنازع قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، جس کے تحت مہلک حملوں میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی۔
ایسوسی ایشن فار سول رائٹس ان اسرائیل (ACRI) نے 30 مارچ 2026 کو قانون کی منظوری کے فوراً بعد ہائی کورٹ آف جسٹس میں درخواست دائر کی۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ “دہشت گردوں کے لیے سزائے موت” کے اس قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔