ایرانی توانائی تنصیبات پر وینزویلا آپریشن جیسے سافٹ کِل حملوں کا انکشاف
کسی بھی پاور پلانٹ پر بمباری نہیں کی گئی ۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تہران کے لیے وارننگ تھی
بلیک آئوٹ بم۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی فضائیہ نے تہران اور کرج میں بجلی منقطع کرنے کے لیے ’سافٹ کل (soft-kill)‘ ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے،کسی بھی پاور پلانٹ پر بمباری نہیں کی گئی۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ ان کی فضائیہ نے CBU-94/B ’’بلیک آؤٹ‘‘ کلسٹربموں کا استعمال کیا، جو BLU-114/B سافٹ کل سب میونیشنز سے لیس تھے۔ ان کا مقصد تہران کے مشرقی ضلع پیروزی سمیت متعدد پاور پلانٹس اور ٹرانسفارمر اسٹیشنوں پر بجلی کے شارٹ سرکٹ پیدا کرنا تھا۔
ان سب میونیشنز سے پھیلنے والے ایلومینیم کے ریشے وائرنگ، ٹرانسفارمرز اور دیگر برقی آلات کے ساتھ چپک گئے، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوئی اور بجلی کی پیداواربندہو گئی۔ اس قسم کے حملے میں استعمال مواد کو ہٹانے اور متاثرہ حصوں کی صفائی اور مرمت کے بعد، بجلی بحال کی جا سکتی ہے۔
کچھ ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ مذکورہ حملہ امریکی فضائیہ نے کیا۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے وزارت توانائی کے حوالے سے بتایا کہ دارالحکومت کے کچھ حصوں اور صوبہ البرز میں انفراسٹرکچر پر حملوں کے بعد بجلی منقطع ہوگئی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، صوبہ البرز میں گرڈ کے ایک حصے پر گولہ بارود کے ٹکڑے گرے، جس کی وجہ سے تہران کے کئی علاقوں اور کرج شہر میں بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔ جو بعد میں بحال کردی گئی۔واضح رہے کہ کرج شہر، صوبہ البرزمیں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ،یہ کارروائی ایرانی حکومت کے لیے ایک وارننگ اور اس کی برداشت اور ردعمل کا امتحان معلوم ہوتی ہے، جو بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حقیقی فضائی حملوں کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
یہ ایک پختہ ٹیکنالوجی ہے جس کا امریکی فضائی مہمات میں ثابت شدہ ریکارڈ موجود ہے۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران، امریکی بحریہ نے عراق پر گریفائٹ پھیلانے کے لیے ٹوما ہاک میزائل استعمال کیے، جس سے پہلے 24 گھنٹوں کے اندر ملک کی تقریباً 85 فیصد بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔ 1999 میں آپریشن الائیڈ فورس کے دوران، امریکی F-117 نائٹ ہاکس نے سربیا پربھی CBU-94 گرائے تھے جس سے ملک کی 70 فیصد بجلی فوری طور پر ختم ہوگئی اور حکومت پر شدید نفسیاتی دباؤ پیدا ہوا۔
یہی طریقہ وینزویلا پرامریکی آپریشن میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔
ہر بار، ان زمینی کارروائیوں سے پہلے یا ان کے ساتھ اس کا اثر دیکھنے میں آیا جن کے لیے دشمن کے کمانڈ، مواصلات اور لاجسٹکس (رسد و رسائل) نظام کو کمزور کرنا ضروری تھا۔