کیا 40 ممالک مل کر آبنائے ہرمز کھلوا لیں گے؟

ورکنگ گروپس بناکر پیش رفت کی جائے گی۔افتتاحی اجلاس میں فیصلہ

               
April 4, 2026 · امت خاص

ورچوئل اجلاس۔ تصویر: سی جی ٹی این

 

 برطانیہ نے گذشتہ دنوں 40 ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس منعقد کیا تاکہ ایران جنگ کی وجہ سے بند بحری گزرگاہ ہرمز کی آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے آپشنز پر بات چیت کی جا سکے۔

واضح رہے کہ یہ ورچوئل اجلاس تھا۔

ایسوسی ایٹڈپریس کے مطابق،اس اجلاس میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے ساتھ مل کر کام کرنے پر بھی بحث کی گئی ،تاہم، کسی ٹھوس اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

 

اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک جن میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، جاپان اور متحدہ عرب امارات بھی شامل تھے، نے ایک بیان پر دستخط کیے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے کو بند کرنے کی کوششیں روک دے۔ان ممالک نے اس آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے مناسب کوششوں میں حصہ لینےکا عزم ظاہر کیا ۔

 

خبررساں اداروں کا بتاناہے کہ یہ میٹنگ آبنائے ہرمزکھلوانے کی کوششوں کا پہلا قدم تھا، جس کے بعد مزید ورکنگ لیول میٹنگزہوں گی تاکہ تفصیلات پر کام کیا جا سکے۔

 

الجزیرہ کے مطابق ،س کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ ایک وسیع اتحاد ہے۔ یہ صرف مغربی نہیں، صرف نیٹو نہیں۔ اس میں برطانیہ، فرانس، اسکینڈینیویائی ممالک، بالٹک ممالک کے علاوہ بحرین، متحدہ عرب امارات، پاناما اور نائیجیریا جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔تاہم، اس کے مرکز میں موجودسوال اہم ہے۔ یہ سب ملک کیا کر سکتے ہیں؟ ان میں سے کتنے بحری صلاحیت پیش کر سکتے ہیں؟تاہم،کوئی بھی ملک جنگ جاری رہتے ہوئے آبنائے کو زور (فورس) سے کھولنے کی کوشش کرنے کو تیار نظر نہیں آتا، کیونکہ ایران اینٹی شپ میزائلوں، ڈرونز، حملہ آور کشتیوں اور بارودی سرنگوں سے جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔چالینڈز کے مطابق، برطانوی وزیر اعظم اس معاملے میں غیر فوجی حل کے بارے میں بہت واضح رہے ہیں۔

 

تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ جیسے برطانوی وزیراعظم کئیر سٹارمر کو اس جنگ میں ملوث ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں،اسی طرح اجلاس میں موجود زیادہ تر ممالک کو بھی اس جنگ میں ملوث ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔

 

برطانوی وزارتِ دفاع کے فوجی منصوبہ ساز اگلے ہفتے ایک ملاقات اور کریں گے تاکہ جنگ ختم ہونے کے بعد جہازرانی کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے طریقوں پر بات چیت کی جا سکے۔

 

سٹارمر نے کہا ہےکہ شپنگ کو دوبارہ شروع کرنا آسان نہیں ہوگا، اور اس کے لیے فوجی طاقت اور سفارتی سرگرمی کا متحدہ محاذدرکار ہوگا، ساتھ ہی بحری صنعت کے ساتھ شراکت بھی ضروری ہوگی۔

 

یہ اتحاد جزوی طور پر امریکی انتظامیہ کو یہ ظاہر کرنے کی کوشش ہے کہ یورپ اپنی سلامتی کے لیے زیادہ اقدامات کر رہا ہے، خاص طور پر جب امریکی صدر نیٹو سے نکلنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

 

فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون نے کہا تھاکہ آبنائے کو زور سے کھولنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنا ممکن نہیں ۔یہ کبھی وہ آپشن نہیں رہا جس کی ہم حمایت کرتے رہے ہیں کیونکہ یہ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔اس میں بہت زیادہ وقت لگے گا میکرون نے کہا، اور جو لوگ آبنائے سے گزریں گے وہ خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں، کیوں کہ ایران اہم وسائل اور بیلسٹک میزائلوں کا حامل ہے۔میکرون نے تجویز کی کہ آبنائے کو کھولنے کا بہترین طریقہ ایران سے براہ راست بات چیت کرنا ہے۔

 

روئٹرزنے بتایاہے کہ 40 ملکی وزرائے خارجہ کے ابتدائی اجلاس میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ کون سے ممالک مجوزہ اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، اور ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر راضی کرنے کے لیے کون سے سفارتی اور معاشی آپشنز دستیاب ہیں۔

 

یورپی ممالک نے ابتدا میں تنازع میں گھسیٹے جانے کے خوف سے اس علاقے میں اپنی بحریہ بھیجنے کے ٹرمپ کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا لیکن عالمی معیشت پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے متعلق خدشات نے انہیں ایک ایسا اتحاد بنانے پر اکسایا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔یورپی سفارت کاروں نے بتایا کہ اتحاد کی تشکیل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کر رہے ہیں۔ امریکہ اس میں شامل نہیں ۔

 

فرانسیسی مسلح افواج کے ترجمان گیوم ورنیٹ نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ یہ عمل کثیر مرحلہ وار ہوگا اور جنگ ختم ہونے تک شروع نہیں ہو سکتا۔مذاکرات کا ایک مرکز یہ بھی ہوگا کہ جہازوں کے مالکان کو اتنا اعتماد کیسے دلایا جائے کہ وہ اس علاقے سے دوبارہ آمد و رفت شروع کر سکیں اور انشورنس پریمیم (بیمے کی قیمت) میں کمی لائی جا سکے۔ورنیٹ نے کہا کہ آخر کار ایران کے ساتھ بھی ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی تاکہ بحری جہازوں کے لیے سکیورٹی کی ضمانتیں یقینی بنائی جا سکیں، حالانکہ فی الحال ایسا ہونا ناممکن لگتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے بھی بات چیت شروع ہو چکی ہے کہ کون سے فوجی وسائل فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ہمیں مناسب تعداد میں بحری جہاز جمع کرنے ہوں گے اور فضا، سمندر اور انٹیلی جنس شیئرنگ (معلومات کے تبادلے) کی صلاحیتوں میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔