ایران میں 1980 کا ناکام ‘آپریشن ایگل کلا’ جب طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے
یرغمالیوں کی رہائی کیلئے ناکام کارروائی کا نتیجہ صدر جمی کارٹر کی شکست کی صورت میں نکلا
ایران میں امریکی پائلٹ کی بازیابی کے لیے کیے گئے اپریشن کے دوران 2 طیاروں اور دو ہیلی کاپٹرز کی تباہی نے 1980 کی دہائی کے اس امریکی اپریشن کی یاد تازہ کر دی ہے جس میں ایران میں پھنسے امریکی یرغمالیوں کو رہا کرانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔
آپریشن ایگل کلا (Operation Eagle Claw)، جسے ایران میں واقعہ طبس کے نام سے جانا جاتا ہے، امریکی تاریخ کی سب سے اہم اور متنازع فوجی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ یہ 24 اور 25 اپریل 1980 کو تہران میں امریکی سفارت خانے میں قید 52 امریکی یرغمالیوں کو رہا کرانے کی ایک ناکام کوشش تھی۔

نومبر 1979 میں ایرانی انقلاب کے دوران، مشتعل طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا اور 52 سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا۔ امریکی صدر جمی کارٹر نے شروع میں سفارتی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن جب مذاکرات ناکام ہو گئے تو انہوں نے فوجی کارروائی کا حکم دیا۔
اس مشن کو “آپریشن ایگل کلا” کا نام دیا گیا، جو انتہائی پیچیدہ اور کئی مراحل پر مشتمل تھا:
پہلے مرحلے میں امریکی فضائیہ کے سی-130 طیارے اور بحری فوج کے 8 ہیلی کاپٹرز کو ایران کے صحرا میں ایک خفیہ مقام پر اترنا تھا، جسے “ڈیزرٹ ون” (Desert One) کا کوڈ نیم دیا گیا تھا۔

دوسرے مرحلے میں ہیلی کاپٹرز کو وہاں سے یرغمالیوں کے قریب ایک خفیہ ٹھکانے پر جانا تھا، جہاں سے سپیشل فورسز (ڈیلٹا فورس) نے تہران میں داخل ہو کر یرغمالیوں کو چھڑانا تھا۔
تیسرے مرحلے میں کامیاب ریسکیو کے بعد، تمام افراد کو ایک قریبی ہوائی اڈے سے نکال کر ملک سے باہر لے جانا تھا۔
تاہم
یہ آپریشن شروع ہوتے ہی حادثات اور تکنیکی خرابیوں کا شکار ہو گیا۔ ناکامی کی بڑی وجوہات ایک سے زیادہ تھیں۔
جب ہیلی کاپٹر اور طیارے ایران کی حدود میں داخل ہوئے تو انہیں ایک شدید اور غیر متوقع ریت کے طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طوفان کی وجہ سے پائلٹس کی بصارت متاثر ہوئی اور ہیلی کاپٹرز کے انجنوں میں ریت بھر گئی۔

مشن کے لیے کم از کم 6 فعال ہیلی کاپٹرز درکار تھے۔ لیکن ایک ہیلی کاپٹر راستے میں ہی تکنیکی خرابی کی وجہ سے واپس چلا گیا۔ ایک اور ہیلی کاپٹر ریت کے طوفان میں پھنس کر تباہ ہو گیا۔ تیسرے ہیلی کاپٹر کا ہائیڈرولک سسٹم فیل ہو گیا، جس کے بعد مشن کو جاری رکھنا ناممکن ہو گیا۔
جب صدر کارٹر نے مشن کی منسوخی کا حکم دیا، تو واپسی کی تیاری کے دوران ایک ہیلی کاپٹر ایندھن بھرنے والے سی-130 طیارے سے ٹکرا گیا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں 8 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے اور کئی زخمی ہوئے۔ باقی ماندہ امریکی فوجی اپنے تباہ شدہ ہیلی کاپٹر اور خفیہ دستاویزات وہیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔

اس ناکامی کے عالمی اور امریکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اس واقعے نے امریکی عوام میں صدر کارٹر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، جس کا نتیجہ 1980 کے انتخابات میں ان کی شکست کی صورت میں نکلا۔
ایرانی قیادت نے اسے “خدائی مدد” قرار دیا اور اس واقعے کو امریکہ کی تذلیل کے طور پر پیش کیا۔ یرغمالیوں کو مختلف مقامات پر منتقل کر دیا گیا تاکہ دوبارہ ایسی کوئی کوشش نہ ہو سکے۔
اس ناکامی کے بعد امریکہ نے اپنی سپیشل فورسز کے ڈھانچے پر نظر ثانی کی اور USSOCOM (یونائیٹڈ سٹیٹس سپیشل آپریشنز کمانڈ) قائم کی تاکہ مستقبل میں ایسی مشترکہ کارروائیوں میں ہم آہنگی بہتر ہو۔
یرغمالیوں کو بالآخر 444 دن بعد جنوری 1981 میں سفارتی معاہدے کے تحت رہا کیا گیا۔