بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں نے افغان دہشتگرد گرفتار کرلیا
افغان شہری دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں، ٹی ٹی اے اور کالعدم ٹی ٹی پی مل کر ہمارے صوبے کے اندر وارداتیں کرتے ہیں ، ضیا لانگو
فائل فوٹو
کوئٹہ: سیکیورٹی اداروں نے افغان دہشتگرد کو گرفتار کرلیا ہے، اس حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ جو لڑکا پکڑا گیا ہے اس کا تعلق تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) سے ہے۔
بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران افغانستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد حبیب اللہ کو گرفتار کر لیا ہے، جس کا تعلق افغان طالبان (ٹی ٹی اے) سے ہے۔ گرفتار دہشت گرد نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مل کر پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا ہے، جبکہ اس کا بھائی شیر افغان بھی پکتیکا کا رہائشی اور ٹی ٹی پی کا کمانڈر ہے۔
ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ حبیب اللہ عرف لالو کو کچلاک کے علاقے سے دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی اس شخص کو گرفتار کیا جا چکا ہے لیکن جذبہ خیر سگالی کے تحت عام شہری سمجھ کر ایک ماہ کی قید کے بعد رہا کر دیا گیا تھا، مگر اس نے دوبارہ دہشت گردی کی راہ اپنائی اس نے ہمارے ایف سی کے دو جوانوں کو شہید کیا۔ اس گرفتاری سے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے کہ ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی مل کر بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔
گرفتار دہشتگرد نے انکشاف کیا کہ اس دہشت گرد گروپ کی قیادت “مسلم” نامی شخص کر رہا ہے اور یہ گروہ پاک افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستانی اہلکاروں کو نشانہ بنانے میں ملوث رہا ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے مزید بتایا کہ صوبے میں اب تک ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں اور غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اب تک 9 لاکھ 60 ہزار افغان باشندوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ بلوچستان بھر میں اب “ون ڈاکومنٹ رجیم” (پاسپورٹ و ویزا پالیسی) مکمل طور پر نافذ کر دی گئی ہے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی غیر قانونی آمد و رفت اور دہشت گردی کے روابط کو مستقل بنیادوں پر ختم کیا جا سکے۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے اس موقع موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بارہا افغان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے ٹھوس ثبوت فراہم کیے ہیں، مگر مثبت جواب نہ ملنے پر اب پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہماری دشمنی افغان عوام سے نہیں بلکہ دہشت گردوں سے ہے اور پاکستان کی سالمیت پر آنکھ اٹھانے والوں کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے جو تشکیلیں پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں ان میں افغان شہری شامل ہیں، ہم نے اس نیٹ ورک کے دیگر کارندوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور جلد مزید کامیابیاں متوقع ہیں۔