پاکستان نے سفارتکاری میں بھارت کو شکست دے دی، فارن پالیسی میگزین میں سابق بھارتی فوجی افسر کا مضمون
داخلی مسائل کے باوجود پاکستان ثالث بنا جبکہ بھارت سائیڈ لائن ہوگیا، سوشانت سنگھ، تجزیے پر بھارت میں آگ لگ گئی
فارن پالیسی میگزین میں شائع ایک مضمون میں ایک سابق بھارتی فوج افسر نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے سفارتکاری میں بھارت کو شکست دے دی ہے اس مضمون پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین شدید غصے میں مبتلا ہیں۔
فارں پالیسی (Foreign Policy) میگزین نے 3 اپریل 2026 کو ایک ایسا تجزیاتی مضمون شائع کیا جس نے بھارت میں تند و تیز ردعمل پیدا کر دیا ہے۔ مضمون کا عنوان ہے “Pakistan’s Peacemaking Is a Setback for India” (پاکستان کی امن سازی بھارت کے لیے دھچکا ہے)۔ اس کے مصنف سوشانت سنگھ (Sushant Singh) بھارتی فوج کے سابق افسر، ییل یونیورسٹی کے لیکچرر اور انڈین میگزین “کاروان” کے کنسلٹنگ ایڈیٹر ہیں۔میگزین نے 5 اپریل کو اپنے آفیشل اکاؤنٹ @ForeignPolicy
سے اس مضمون کو پروموٹ کرتے ہوئے کہاکہ سوشانت سنگھ لکھتے ہیں “پاکستان نے اپنے اندرونی مسائل اور ناکامی کے خطرات کے باوجود سفارتی اہمیت پیدا کر کے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے”۔
اس پوسٹ پر ہزاروں ویوز اور سینکڑوں تبصرے آئے، جن میں زیادہ تر بھارتی صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
مضمون میں سوشانت سنگھ لکھتے ہیں کہ ایران-اسرائیل تنازع اور امریکہ-ایران کشیدگی کے دوران پاکستان نے خود کو “غیر جانبدار ثالث” کے طور پر پیش کیا ہے اور اس سے بھارت کی خارجہ پالیسی کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے 29 مارچ کو مصر، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کی میزبانی کی، سیز فائر کمیٹی بنائی اور ہرمز آبنائے سے اپنے جہازوں کی محفوظ گزر کا معاہدہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے درمیان بیک چینل پیغام رسانی کی۔چین کے ساتھ مل کر پانچ نکاتی امن پلان پیش کیا گیا۔
سوشانت سنگھ کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ 1971 کی طرح ہے جب پاکستان نے امریکہ-چین رابطے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
مصنف نے کہا کہ نریندر مودی کی خارجہ پالیسی نے پاکستان کو “دلال” (broker) کہہ کر تنہا کرنے کی کوشش کی، مگر نتیجہ الٹا نکلا۔ بھارت اب علاقائی بحران میں “سائیڈ لائن” ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان کو ترجیح دی، جبکہ بھارت کے ساتھ صرف ایک فون کال ہوئی (جس میں ایلون مسک بھی موجود تھے)۔ سوشانت سنگھ لکھتے ہیں کہ مودی کی پالیسی “گھریلو سیاست” پر مبنی تھی، جبکہ پاکستان نے بحران کو “سفارتی فائدہ” میں تبدیل کر لیا۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کی یہ کوششیں “نازک” ہیں—اقتصادی کمزوری، فوجی غلبہ اور اندرونی عدم استحکام کی وجہ سے ناکام ہو سکتی ہیں—مگر اس نے بھارت کی “تنہا کرنے کی حکمت عملی” کو ناکام بنا دیا ہے
۔بھارت سے شدید ردعمل اور تنقیدفارن پالیسی کی پوسٹ کے تحت بھارتی صارفین نے سوشانت سنگھ اور مضمون دونوں پر شدید تنقید کی
“@Yogakshema_
” نے کہا: “What does the author smoke apart from his regular dose of consumption of Pakistani chooran”۔
“@smitadeshmukh
” (جورنلسٹ) نے grok سے پوچھا: “Isn’t this publication pushing a fake narrative for Pakistan constantly?”۔
“@Germandia
” نے سوشانت سنگھ کے پچھلے مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ان کا ایک ہی تھیم ہے: “Modi’s Politics Hinder Ties”، “India Alienated Bangladesh” وغیرہ—یعنی مودی حکومت کی ہمیشہ تنقید۔
کئی صارفین نے انہیں “brown sepoy”، “paid author”، “anti-national” اور “Modi hater” قرار دیا۔ ایک نے لکھا: “Anti Govt Author Sits at US Can Write about Alien Exploration Without Any source”۔
بہت سے بھارتی صارفین نے یہ بھی کہا کہ فارن پالیسی میگزین “پاکستان کی پروپیگنڈا” کر رہا ہے اور سوشانت سنگھ جیسے “مغربی میڈیا” میں لکھنے والے مصنفین “بھارت کو بدنام” کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک نے طنز کیا: “Indians when zero days without mentioning Pakistan”۔تناظر اور اہمیتیہ مضمون اس وقت شائع ہوا جب ایران-اسرائیل تنازع عروج پر ہے اور امریکہ-ایران بات چیت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ سوشانت سنگھ بھارتی فوج کے سابق افسر ہونے کے باوجود ماضی میں بھی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کو اب “حقیقت پسندانہ” سوچ اپنانی چاہیے۔بھارت میں یہ مضمون “خارجہ پالیسی کی ناکامی” کے بیانیے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ کچھ حلقے اسے “پاکستان کی پروپیگنڈا” قرار دے رہے ہیں۔ X (سابقہ ٹوئٹر) پر بحث اب بھی جاری ہے اور یہ موضوع بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گرم ہے۔