ایران امریکا جنگ بندی:دنیا بھر میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی تعریفیں

تمام فریقین جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ کشیدگی میں حقیقی کمی لائی جا سکے۔

               
April 8, 2026 · اہم خبریں

 اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ کشیدگی میں حقیقی کمی لائی جا سکے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے جنگ بندی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے تنازع کے مستقل حل کی راہ ہموار ہوگی۔ جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری مینورو کہارا نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے خاص طور پر آبنائے ہرمز میں محفوظ نقل و حرکت کی ضرورت پر زور دیا۔

عراق اور مصر کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس پیش رفت کو خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا، جبکہ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے دیرپا امن کے لیے جامع مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

ادھر انڈونیشیا اور جرمنی نے بھی جنگ بندی کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے سفارتکاری کے فروغ اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔ جرمن قیادت کی جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ یہ پیش رفت مستقل امن کی جانب پہلا قدم ثابت ہونی چاہیے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی کو کشیدگی کم کرنے میں مؤثر قرار دیا ہے۔ عمان نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ جنگ بندی عارضی نوعیت کی ہے، تاہم اگر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی بنیاد بن سکتی ہے۔