معرکہ حق 2.0۔امن کی فتح اور پاکستان کا عالمی سطح پر بڑھتا وقار
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کی فعال، مخلصانہ اور مدبرانہ سفارت کاری نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کی فعال، مخلصانہ اور مدبرانہ سفارت کاری نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ تاریخی کامیابی عالمی منظر نامے پر پاکستان کے ایک Bridge-builder کے طور پر ابھرتے ہوئے کردار کی توثیق کرتی ہے۔
یہ جنگ بندی محض ایک تزویراتی وقفہ نہیں، بلکہ اشتعال انگیزی کے مقابلے میں امن کی ایک عظیم فتح ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات کے حل کے لیے “مذاکرات” ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک بصیرت افروز مدبر کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی ذاتی دلچسپی اور مخلصانہ ثالثی نے خطے کو ایک وسیع تر جنگ کے دہانے سے بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔
ان کا ہر سفارتی قدم پاکستان کے قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کی وحدت کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ تھا۔ ان کی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو ایک نئی جلا بخشی ہے۔
ملکی سلامتی کے امور کی سربراہی کے ساتھ ساتھ، اس نوعیت کی اعلیٰ سطحی عالمی ثالثی میں مرکزی کردار ادا کرنا ایک ایسا اعزاز ہے جس نے عسکری اور سفارتی اشتراکِ عمل کا ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ بھی مکمل وضاحت کے ساتھ “اصولی موقف” اختیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسے دو ٹوک موقف کے لیے وقت کا انتخاب انتہائی موزوں تھا، جس نے قیامِ امن کے لیے پاکستان کے تعمیری اور مخلصانہ کردار کے مثبت نتائج مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
حقیقی ثالثی میں کوئی فاتح یا مفتوح نہیں ہوتا، بلکہ کامیابی کا معیار فریقین کی اس رضامندی میں ہے کہ وہ بڑے مقصد کے لیے لچک کا مظاہرہ کریں۔ پاکستان کا کردار ایک ایسے توازن کو یقینی بنانا تھا جہاں طویل مدتی استحکام کے لیے نفع اور نقصان کی مساوی تقسیم ہو۔
یہ پیش رفت انسانیت کی جیت ہے۔ بحران کی شدت کو کم کر کے پاکستان نے خطے اور دنیا بھر کے کمزور اور پسماندہ طبقات کے روزگار کے تحفظ میں مدد فراہم کی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے استحکام سے عالمی توانائی کی منڈیوں اور ترسیلِ مال پر دباؤ براہِ راست کم ہو گا، جو ان غریب طبقات کے لیے ایک سہارا ثابت ہو گا جن کی روزمرہ زندگی کا دارومدار عالمی معاشی استحکام پر ہے۔
اس تاریخی کامیابی کے باوجود ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ حاسدین اور دشمن عناصر اپنے محدود ایجنڈے کی تکمیل اور خطے کو دوبارہ بحران میں دھکیلنے کے لیے اس کارنامے کو داغدار کرنے کی کوشش کریں گے۔
یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ ابھی سفر ادھورا ہے اور منزلِ مقصود باقی ہے۔ ہماری اصل کامیابی اس عارضی جنگ بندی کو ایک پائیدار اور مستقل امن میں بدلنے میں ہے، تاکہ یہاں سے خطے میں باہمی تعاون، پائیدار استحکام اور ہمہ گیر خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکے۔
منفی بیانیے اور پروپیگنڈے کے سدِباب میں پاکستان کی کامیابیاں مثالی رہی ہیں، تاہم Information Domain میں دشمنوں کی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اب بھی بروقت، مثبت اور فعال ردِعمل کی ضرورت ہے۔
پاکستان نے بیک وقت متعدد شدید نوعیت کے بحرانوں سے نمٹنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کی کوششوں سے لے کر فیصلہ کن “آپریشن غضب لِلحق” اور داخلی دہشت گردی کے خاتمے تک، ریاست کے قدم غیر متزلزل اور حکمتِ عملی دانش مندانہ رہی ہے۔
دفاعی اور سفارتی محاذوں کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنی معاشی استعداد کو بھی کامیابی سے برقرار رکھا ہے۔ یہ بڑھتا ہوا عالمی وقار اب معاشی ثمرات میں تبدیل ہو رہا ہے، اور اہم معاشی شراکت داروں کے ساتھ بڑھتا ہوا اعتماد ایک خوشحال اور مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
ان بے شمار “اولین کامیابیوں” کے ذریعے پاکستان اب بحرانوں میں الجھے ہوئے ملک کے بجائے بحرانوں کو حل کرنے والی ایک توانا قوم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ الحمدللہ