اسلام آبادمعاہدہ قریب تھے مگر امریکی مؤقف نے مذاکرات ناکام بنا دیے۔عراقچی
“نیک نیتی کا جواب نیک نیتی سے دیا جاتا ہےجبکہ دشمنی، دشمنی کو جنم دیتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ گزشتہ 47 برسوں میں اعلیٰ سطح کے انتہائی اہم مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی تاکہ جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے قریب پہنچ چکے تھے، تاہم آخری مرحلے میں امریکی جانب سے “زیادہ سے زیادہ مطالبات، مؤقف میں تبدیلی اور ناکہ بندی” جیسے اقدامات کے باعث پیشرفت رک گئی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا، اور واضح کیا کہ “نیک نیتی کا جواب نیک نیتی سے دیا جاتا ہے جبکہ دشمنی، دشمنی کو جنم دیتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے اور خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔