نیتن یاہو کی کال سے اسلام آباد مذاکرات ناکام ہوگئے،ایران کا الزام

نیتن یاہو کی جانب سے تھی، جس کے باعث مذاکرات کی توجہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے ہٹ کر اسرائیل کے مفادات کی جانب منتقل ہو گئی۔

               
April 13, 2026 · بام دنیا

اسلام آباد: ایران نے امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات میں کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کی ذمہ داری اسرائیلی قیادت پر عائد کر دی ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران اچانک پیش آنے والی ایک پیش رفت نے بات چیت کا رخ تبدیل کر دیا۔ ان کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو موصول ہونے والی ایک اہم فون کال کے بعد مذاکرات کی سمت بدل گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کال اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے تھی، جس کے باعث مذاکرات کی توجہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے ہٹ کر اسرائیل کے مفادات کی جانب منتقل ہو گئی۔

عباس عراقچی کے مطابق امریکا نے مذاکرات کے دوران وہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، جبکہ ایران نے پورے عمل میں نیک نیتی کا مظاہرہ کیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں 21 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے اور امریکی نائب صدر وطن واپس روانہ ہو گئے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔

دوسری جانب تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس مبینہ فون کال کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔