اسلام آباد میں ریڈ زون بند،ٹریفک اور کاروباری سرگرمیاں متاثر
ریڈ زون اور اس کے توسیعی علاقوں میں صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔پولیس
اسلام آباد: دارالحکومت پولیس نے ریڈ زون اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی وجوہات کے باعث ٹریفک اور آمدورفت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں ٹریفک نظام متاثر رہا۔
پولیس کی جانب سے جاری ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق ریڈ زون اور اس کے توسیعی علاقوں میں صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوگی، جبکہ کشمیر چوک سے سرینا چوک اور سری نگر ہائی وے کی جانب ٹریفک مکمل طور پر بند رہے گا۔
راستوں کی بندش کے باعث شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بہارہ کہو سے آنے والے مسافروں کو کلب روڈ جبکہ مری روڈ سے آنے والے موٹر سائیکل سواروں کو کشمیر چوک اور بہارہ کہو روٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اسی طرح سری نگر ہائی وے کے بعض حصے بھی بند رہے جبکہ زیرو پوائنٹ اور سیونتھ ایونیو کے کچھ راستے جزوی طور پر کھلے رہے۔
راولپنڈی میں صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کے باعث مختلف علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ صدر، راجہ بازار اور نور خان ایئربیس کے اطراف کے علاقوں میں دکانیں بند رہیں اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاجر تنظیموں کے مطابق بعض اوقات دکانیں کھولنے اور دوبارہ بند کرنے کے متضاد احکامات نے صورتحال کو مزید الجھا دیا، جس سے کاروباری طبقے کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی دستیابی بھی متاثر ہوئی اور کئی علاقوں میں لوگوں کو بنیادی ضروریات کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پڑے۔
انتظامیہ کے مطابق ریڈ زون کی بندش عارضی ہے اور حالات معمول پر آنے کے بعد ٹریفک اور کاروباری سرگرمیاں بحال کر دی جائیں گی۔